چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں کا امریکہ کی معروف یونیورسٹیوں کا دورہ، نوجوانوں کے لیے تعلیمی تعاون اور مہارتوں کے فروغ پر اتفاق

چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں نے امریکہ کی تین ممتاز یونیورسٹیوں، یونیورسٹی آف شکاگو، یونیورسٹی آف الینوائے شکاگو (یو آئی سی) اور ڈی پال یونیورسٹی کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد اعلیٰ تعلیم، نوجوانوں کی ترقی، تحقیق، جدت اور مہارتوں کے فروغ کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانا اور پاکستانی نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنا تھا۔

واشنگٹن۔24جولائی (اے پی پی):چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں نے امریکہ کی تین ممتاز یونیورسٹیوں، یونیورسٹی آف شکاگو، یونیورسٹی آف الینوائے شکاگو (یو آئی سی) اور ڈی پال یونیورسٹی کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد اعلیٰ تعلیم، نوجوانوں کی ترقی، تحقیق، جدت اور مہارتوں کے فروغ کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانا اور پاکستانی نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنا تھا۔ جمعہ کو وزیراعظم یوتھ پروگرام سے جاری بیان کے مطابق یونیورسٹی آف شکاگو میں چیئرمین رانا مشہود احمد خاں نے یو شکاگو گلوبل کی ایسوسی ایٹ وائس پریزیڈنٹ برائے گلوبل انیشی ایٹوز اینڈ سٹریٹجی کیٹی ہرینیاک سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ڈیجیٹل مہارتوں، قائدانہ صلاحیتوں، کاروباری مواقع، کیریئر کی تیاری اور پاکستانی نوجوانوں کے لیے مختصر مدتی تربیتی پروگراموں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

چیئرمین رانا مشہود نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کے مختلف اقدامات سے بھی آگاہ کیا جن کا مقصد نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، روزگار اور کاروباری مواقع کے ذریعے بااختیار بنانا ہے۔ دونوں جانب سے مستقبل میں مشترکہ منصوبوں اور تعلیمی تعاون کو فروغ دینے میں دلچسپی کا اظہار کیا گیا۔یونیورسٹی آف الینوائے شکاگو (یو آئی سی) میں چیئرمین رانا مشہود احمد خاں نے عبوری ایگزیکٹو ڈین کالج آف میڈیسن ڈاکٹر اینریکو بینیڈیٹی اور عبوری وائس پرووسٹ برائے گلوبل انگیجمنٹ ڈاکٹر جیمز (جم) ہیمرشمٹ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے یونیورسٹی کی روبوٹک سرجری لیبارٹری کا بھی دورہ کیا جہاں انہیں روبوٹک سرجری، اعضاء کی پیوندکاری اور جدید طبی ٹیکنالوجیز میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔

ملاقات میں طبی تعلیم، ڈیجیٹل ہیلتھ، تحقیق، جدت اور نوجوانوں کی مہارتوں کے فروغ کے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال ہوا۔ دونوں فریقوں نے پاکستان اور یو آئی سی کے درمیان تعلیمی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے اور استعداد کار بڑھانے کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ڈی پال یونیورسٹی میں چیئرمین رانا مشہود احمد خاں نے یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر رابرٹ ایل مینویل سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں اعلیٰ تعلیم، نوجوانوں کی ترقی، ڈیجیٹل مہارتوں، کیریئر کی تیاری، قائدانہ صلاحیتوں، کاروباری تربیت، آن لائن تعلیم، تعلیمی تبادلوں، رہنمائی (منٹورشپ) اور ادارہ جاتی تعاون کے مختلف پہلوئوں پر گفتگو ہوئی۔

چیئرمین رانا مشہود احمد خاں نے اس موقع پر پاکستان اور ڈی پال یونیورسٹی کے درمیان مضبوط ہوتے تعلیمی روابط کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان ڈی پال یونیورسٹی میں بین الاقوامی طلبہ بھیجنے والا دوسرا بڑا ملک جبکہ بین الاقوامی انڈرگریجویٹ طلبہ کے حوالے سے پہلے نمبر پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ 22۔2021 میں پاکستانی طلبہ کی تعداد 93 تھی جو 26 ۔2025 میں بڑھ کر 221 ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق پاکستانی طلبہ کی یہ بڑھتی ہوئی تعداد وزیراعظم یوتھ پروگرام اور ڈی پال یونیورسٹی کے درمیان مستقبل کے تعاون کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔

دورے کے دوران چیئرمین رانا مشہود احمد خاں نے ڈی پال یونیورسٹی میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے ان کی تعلیمی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے انہیں پاکستان کے بہترین سفیر کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے اور پاکستان و امریکہ کے درمیان تعلیمی، پیشہ ورانہ اور ثقافتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی تلقین کی۔اپنے دوروں پر اظہار خیال کرتے ہوئے چیئرمین رانا مشہود احمد خاں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان نوجوانوں کے لیے عالمی معیار کی تعلیمی شراکت داریوں کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، صحت، جدت، کاروباری صلاحیتوں، قیادت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں عالمی جامعات کے ساتھ تعاون وزیراعظم یوتھ پروگرام کے اس وژن کا حصہ ہے جس کا مقصد پاکستانی نوجوانوں کو عالمی معیار کی مہارتوں سے آراستہ کرنا اور مستقبل کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنا ہے۔یہ دورے اس بات کا مظہر ہیں کہ وزیراعظم یوتھ پروگرام اور امریکہ کی ان ممتاز جامعات کے درمیان طویل المدتی تعلیمی شراکت داری، تحقیق، جدت، ادارہ جاتی تعاون اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے مشترکہ عزم موجود ہے تاکہ پاکستانی نوجوانوں کے لیے عالمی سطح پر تعلیم، تحقیق اور پیشہ ورانہ ترقی کے مزید مواقع پیدا کیے جا سکیں۔