مستونگ میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کے قتل کے بعد سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ایک غیر ملکی سرپرستی میں چلنے والی ہائبرڈ وارفیئر حکمت عملی کا حصہ ہے، جسے بی ایل اے اور بی وائی سی کے گٹھ جوڑ کے ذریعے دہلی اور کابل میں موجود ہینڈلرز کی نگرانی میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
مستونگ میں جج کے قتل نے غیر ملکی پشت پناہی اور بی ایل اے-بی وائی سی گٹھ جوڑ بے نقاب کر دیا، تجزیہ کاروں کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے پابندیوں کا مطالبہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔24جولائی (اے پی پی):مستونگ میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کے قتل کے بعد سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ایک غیر ملکی سرپرستی میں چلنے والی ہائبرڈ وارفیئر حکمت عملی کا حصہ ہے، جسے بی ایل اے اور بی وائی سی کے گٹھ جوڑ کے ذریعے دہلی اور کابل میں موجود ہینڈلرز کی نگرانی میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
داعش (آئی ایس کے پی) کی جانب سے حملے کی فوری ذمہ داری قبول کرنے پر سنگین تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ماہرین اس دعوے کو ایک ایسی عملی ڈھال قرار دیتے ہیں جو اصل مجرموں سے عوامی غصے کا رخ موڑنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ریاستی اداروں کے خلاف اس ٹارگٹڈ حملے کے بعد تجزیہ کار عالمی برادری کی تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور براہ راست سوال اٹھا رہے ہیں کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ان غیر ملکی فنڈڈ دہشت گرد نیٹ ورکس اور ان کے بیرون ملک سرپرستوں کے خلاف عالمی پابندیاں عائد کرنے کے لیے کب بیدار ہوگی؟یہ ٹارگٹڈ حملہ اس وقت پیش آیا جب عدالتی حکام کوئٹہ سے مستونگ کا سفر کر رہے تھے اور ولی خان بائی پاس کراسنگ کے قریب پہنچے۔
سیشن جج کاکڑ اور ان کا سکیورٹی گارڈ موقع پر ہی شہید ہو گئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری شدید زخمی ہوئے۔سکیورٹی تجزیہ کار اس ٹارگٹ کلنگ کو عدلیہ کو ڈرانے، قانون کی حکمرانی کو سبوتاژ کرنے اور بلوچستان میں ریاستی قلمرو کو کمزور کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عزم کو توڑنے میں ناکامی کے بعد کالعدم انتہا پسند گروہوں نے اب اپنا رخ عدالتی حکام، پراسیکیوٹرز اور شہری اداروں کی طرف کر لیا ہے۔انٹیلی جنس ماہرین اس خطے میں ایک پیچیدہ حکمت عملی کی نشاندہی کرتے ہیں جس میں زمین پر مسلح گھات لگانے، ٹارگٹ کلنگز اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کا کام کرتی ہے۔بی وائی سی ایک شہری پروکسی کا کردار ادا کرتی ہے جو نظریاتی مواد، میڈیا کور اور عوامی ہمدردی پیدا کرتی ہے تاکہ مسلح جنگجوئوں کا بچائو کیا جا سکے۔
حملے کے چند گھنٹوں بعد ہی ذمہ داری قبول کر لیتے ہیں تاکہ عوامی غصے کو جھیل سکیں اور اصل متحرک ہاتھوں کو چھپا سکیں۔جغرافیائی حالات اور مستونگ میں بی ایل اے کی موجودگی کو مدنظر رکھتے ہوئے، انٹیلی جنس تجزیہ کار داعش کے مفاد پر مبنی دعووں کو اسی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ قرار دیتے ہیں جس کا مقصد عام شہریوں یا عدالتی شخصیات کو نشانہ بنانے پر پیدا ہونے والے ردعمل سے بچنا ہے۔سکیورٹی اسیسمنٹ دہلی اور کابل سے کام کرنے والے بیرونی ہینڈلرز کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو پاکستان میں اس پروکسی وار کو برقرار رکھنے کے لیے لاجسٹکس، محفوظ مواصلاتی ذرائع اور مالی معاونت فراہم کرتے ہیں۔
قوم پرست جنگجو گروہوں اور بین الاقوامی دہشت گرد پروکسیز کے اس گٹھ جوڑ کے پیش نظر سکیورٹی تجزیہ کاروں نے انسداد دہشت گردی کے عالمی اداروں سے فوری اقدام کا مطالبہ کیا ہے۔ماہرین اقوام متحدہ کے بین الاقوامی شراکت داروں پر زور دیتے ہیں کہ وہ سلامتی کونسل کی موجودہ قرار دادوں کے فریم ورک کے تحت ان عملی اور مالیاتی نیٹ ورکس کا جائزہ لیں۔وہ خطے میں مزید عدم استحکام کو روکنے کے لیے کالعدم تنظیموں اور ان کے بیرون ملک مالی سرپرستوں پر پابندیوں کا پرزور مطالبہ کر رہے ہیں۔علاوہ ازیں علیحدہ سے جاری کردہ بیانات میں صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اوروزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ریاست دہشت گردوں کی دھمکیوں کے آگے ہرگز نہیں جھکے گی۔
قومی یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحیٰ آفریدی نے شہید جج اور وکلاء برادری کے ساتھ اظہار ہمدردی کے طور پر ’نیشنل جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس‘ کو ملتوی کر دیا ہے۔دوسری جانب سکیورٹی فورسز نے مستونگ اور اس کے اطراف میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز تیز کر دیئے ہیں جن میں متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔بلوچستان بار کونسل نے عدالتی عملے کی سکیورٹی میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے صوبہ بھر میں دو روز کے لیے عدالتوں کے بائیکاٹ اور تین روزہ رسمی سوگ کا اعلان کیا ہے۔








