وفاقی وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت، وجیہہ قمر نے اپنے سرکاری دورۂ جمہوریہ قازقستان کے دوران الفارابی قازق نیشنل یونیورسٹی (KazNU) کے چیئرمین بورڈ آف مینجمنٹ و ریکٹر پروفیسر ژانسیت توئیمبایف سے ملاقات کی۔
پاکستان اور قازقستان کا قازق نیشنل یونیورسٹی میں پاکستان۔قازقستان ریسرچ سینٹر کے قیام پر اتفاق

مزید خبریں
الماتی ۔24جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت، وجیہہ قمر نے اپنے سرکاری دورۂ جمہوریہ قازقستان کے دوران الفارابی قازق نیشنل یونیورسٹی (KazNU) کے چیئرمین بورڈ آف مینجمنٹ و ریکٹر پروفیسر ژانسیت توئیمبایف سے ملاقات کی۔ جمعرات کو وزارت سے جاری اعلامیہ کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور قازقستان کے درمیان اعلیٰ تعلیم، سائنسی تحقیق، جدت اور جامعاتی روابط کے فروغ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے باہمی مفاہمتی یادداشت (MoU) کے تحت الفارابی قازق نیشنل یونیورسٹی میں پاکستان۔قازقستان ریسرچ سینٹر کے قیام پر اتفاق کیا۔ یہ مرکز دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان ادارہ جاتی تعاون، مشترکہ تحقیقی منصوبوں، سائنسی جدت، تعلیمی تبادلوں اور تحقیق و اختراع کے فروغ کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔
وجیہہ قمر نے الفارابی قازق نیشنل یونیورسٹی کے بین الاقوامی علمی مقام، تحقیقی کامیابیوں اور تعلیمی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان قازقستان کے ساتھ اعلیٰ تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط بین الجامعاتی روابط دونوں ممالک کی مشترکہ ترقی اور علمی تعاون کے فروغ کے لیے نہایت اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جامعات مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence)، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل اختراع اور جدید ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کر رہی ہیں، جن میں قازق نیشنل یونیورسٹی کے ساتھ مشترکہ تحقیق اور علمی تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان۔قازقستان ریسرچ سینٹر دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی اور سائنسی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا۔ وجیہہ قمر نے الفارابی قازق نیشنل یونیورسٹی کی قیادت اور فیکلٹی کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی تاکہ وہ پاکستان کی ممتاز جامعات کے ساتھ شراکت داری کو مزید فروغ دیں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلوں کو وسعت دیں، مشترکہ تحقیقی منصوبوں، سائنسی تربیت اور علمی اختراع کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
اس موقع پر ریکٹر پروفیسر ژانسیت توئیمبایف نے پاکستان کی جامعات کے ساتھ جاری تعلیمی روابط، طلبہ و اساتذہ کے تبادلوں، مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں اور بین الاقوامی کانفرنسوں کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان۔قازقستان ریسرچ سینٹر دونوں ممالک کے علمی اداروں کے درمیان طویل المدتی سائنسی تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے پیش کی گئی تمام تجاویز کی توثیق کی گئی اور ان پر مرحلہ وار عملدرآمد کے لیے ایک مشترکہ لائحۂ عمل تیار کرنے پر اتفاق کیا گیا، تاکہ پاکستان اور قازقستان کے درمیان اعلیٰ تعلیم، تحقیق، اختراع اور سائنسی تعاون کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔








