اکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کا آغاز کل25 جولائی سے ہوگا۔ پہلا ٹیسٹ 25 سے 29 جولائی تک برائن لارا کرکٹ اکیڈمی ٹارووبا میں کھیلا جائے گا جبکہ دوسرا اور آخری ٹیسٹ 2 سے 6 اگست تک کوئنز پارک اوول پورٹ آف سپین میں ہوگا۔ دونوں میچز آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ 2025-27 کا حصہ ہیں۔
پاک ویسٹ انڈیز کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کا آغازکل سے ہوگا

مزید خبریں
لاہور۔24جولائی (اے پی پی):پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کا آغاز کل25 جولائی سے ہوگا۔ پہلا ٹیسٹ 25 سے 29 جولائی تک برائن لارا کرکٹ اکیڈمی ٹارووبا میں کھیلا جائے گا جبکہ دوسرا اور آخری ٹیسٹ 2 سے 6 اگست تک کوئنز پارک اوول پورٹ آف سپین میں ہوگا۔ دونوں میچز آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ 2025-27 کا حصہ ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے موجودہ سائیکل کی تیسری جبکہ بیرون ملک دوسری ٹیسٹ سیریز ہوگی۔قومی ٹیم نے سیریز سے قبل پورٹ آف سپین میں چار روزہ وارم اپ میچ کھیل کر اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دی۔ وارم اپ میچ کی پہلی اننگز میں اوپنر اذان اویس اور بابر اعظم نے شاندار سنچریاں اسکور کیں جبکہ شان مسعود اور عبداللہ فضل نے نصف سنچریاں بنائیں۔
دوسری اننگز میں اویس ظفر اور سلمان علی آغا نے بھی نصف سنچریاں اسکور کر کے عمدہ فارم کا مظاہرہ کیا۔ فاسٹ بولر محمد علی نے ویسٹ انڈیز سلیکٹ الیون کے خلاف پہلی اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کر کے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا۔اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنے گزشتہ پانچ ٹیسٹ میچوں میں سے تین میں کامیابی حاصل کی ہے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان اب تک مجموعی طور پر 56 ٹیسٹ میچز کھیلے جا چکے ہیں جن میں پاکستان نے 22 اور ویسٹ انڈیز نے 19 میچز جیتے جبکہ 15 مقابلے ڈرا ہوئے۔ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کے لیے پاکستان کے 15 رکنی اسکواڈ میں چار ان کیپڈ کھلاڑی شامل ہیں۔ علی عثمان، اویس ظفر، عبید شاہ اور غازی غوری پہلی بار قومی ٹیسٹ اسکواڈ کا حصہ بنے ہیں۔
بابر اعظم نے سیریز سے قبل اپنے بیان میں کہا کہ ویسٹ انڈیز میں کھیلنا ہمیشہ ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے، تاہم ٹیم نے وہاں کی کنڈیشنز کے مطابق بھرپور تیاری کی اور تمام کھلاڑی پراعتماد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چار روزہ وارم اپ میچ نے کھلاڑیوں کو مقامی حالات سے ہم آہنگ ہونے کا بہترین موقع فراہم کیا۔ بابر اعظم نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں مسلسل پانچ روز تک نظم و ضبط اور مستقل مزاجی ہی کامیابی کی کنجی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سینئر اور نوجوان کھلاڑیوں کا امتزاج ٹیم کی سب سے بڑی طاقت ہے، جبکہ نئے کھلاڑیوں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ کارکردگی کی بدولت قومی ٹیم میں جگہ بنائی ہے۔







