پاکستان نے پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں چاول کی پیداوار بڑھانے کا چھ سالہ منصوبہ مکمل کر لیا ہے جس کے تحت جدید زرعی مشینری، پانی کی بچت کی ٹیکنالوجیز اور بہتر اقسام متعارف کرائی گئیں تاکہ چاول کی حقیقی اور ممکنہ پیداوار کے درمیان فرق کم کیا جا سکے
پاکستان نے چاول کی پیداوار بڑھانے کا چھ سالہ منصوبہ مکمل کر لیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔25جولائی (اے پی پی):پاکستان نے پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں چاول کی پیداوار بڑھانے کا چھ سالہ منصوبہ مکمل کر لیا ہے جس کے تحت جدید زرعی مشینری، پانی کی بچت کی ٹیکنالوجیز اور بہتر اقسام متعارف کرائی گئیں تاکہ چاول کی حقیقی اور ممکنہ پیداوار کے درمیان فرق کم کیا جا سکے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق حکومت نے جدید ٹیکنالوجی، تحقیق و ترقی، معیاری زرعی وسائل تک بہتر رسائی اور کسانوں کی استعداد کار بڑھانے پر مبنی مربوط حکمت عملی اختیار کی۔ یہ اقدامات 2019 سے 2025 تک جاری رہنے والے میگا پی ایس ڈی پی منصوبے "پروڈکٹیویٹی انہانسمنٹ آف رائس” کے تحت کیے گئے۔منصوبے کے اہم اقدامات میں زرعی مشینری کے استعمال کو فروغ دینا شامل تھا جس کے تحت لیزر لینڈ لیولرز، مکینیکل رائس ٹرانسپلانٹرز اور کمبائن ہارویسٹرز کسانوں کو 50 فیصد لاگت کی شراکت کی بنیاد پر فراہم کیے گئے تاکہ وہ چاول کی جدید کاشت کے طریقے اپنائیں اور کھیتوں کی کارکردگی بہتر بنائیں۔دستاویزات کے مطابق منصوبے کے تحت سمارٹ ایگریکلچر کے طریقوں کو بھی فروغ دیا گیا جن میں پریسیژن فارمنگ، ڈائریکٹ سیڈڈ رائس (ڈی ایس آر) اور گڈ ایگریکلچرل پریکٹسز (جی اے پیز) شامل ہیں، تاکہ فصلوں کے بہتر انتظام اور پیداوار میں اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔اس پروگرام کے ذریعے جدید تحقیق کی مدد سے زیادہ پیداوار دینے والی، بیماریوں کے خلاف مزاحمت رکھنے والی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ چاول کی نئی اقسام کی تیاری اور متعارف کرانے پر بھی توجہ دی گئی، جس کا مقصد پیداوار اور فصل کی پائیداری میں اضافہ تھا۔پانی کا مؤثر استعمال بھی منصوبے کا ایک اہم حصہ رہا۔ اس مقصد کے لیے الٹرنیٹ ویٹنگ اینڈ ڈرائنگ، ڈرپ اریگیشن اور ٹیوب ویلوں کی سولرائزیشن جیسے جدید طریقوں کو فروغ دیا گیا تاکہ پانی کے بہتر استعمال کے ذریعے چاول کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے کیونکہ اس فصل میں پانی کا مؤثر انتظام بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔حکومت نے جدید تحقیقی اقدامات کے ذریعے زیادہ پیداوار دینے والی، بیماریوں سے محفوظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے والی چاول کی اقسام کی تیاری اور فروغ پر بھی خصوصی توجہ دی۔منصوبے کے تحت بین الاقوامی تعاون کو بھی فروغ دیا گیا جس میں انٹرنیشنل رائس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (آئی آر آر آئی) اور چین نے ٹیکنالوجی کی منتقلی اور پاکستان میں چاول کی جدید پیداواری تکنیکوں کے فروغ میں تعاون فراہم کیا۔








