اقوام متحدہ کے تین اداروں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں خوراک کی دستیابی اور بچوں کی غذائی صحت میں آنے والی بہتری نازک ہے، اور اگر انسانی امداد، مالی معاونت اور بحالی کے اقدامات مسلسل جاری نہ رہے تو یہ پیش رفت تیزی سے ختم ہو سکتی ہے
غزہ میں غذائی صورتحال میں بہتری، مگر مسلسل امداد نہ ملی تو پیش رفت ختم ہونے کا خدشہ، اقوام متحدہ کا انتباہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔25جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ کے تین اداروں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں خوراک کی دستیابی اور بچوں کی غذائی صحت میں آنے والی بہتری نازک ہے، اور اگر انسانی امداد، مالی معاونت اور بحالی کے اقدامات مسلسل جاری نہ رہے تو یہ پیش رفت تیزی سے ختم ہو سکتی ہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او)، یونیسیف اور عالمی خوراک پروگرام (ڈبلیو ایف پی)جاری بیان میں کہا کہ جنگ سے متاثرہ غزہ میں لوگوں کو اب بھی روزگار، مقامی غذائی نظام اور بنیادی سہولیات کی بحالی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ڈبلیو ایف پی کے قائم مقام سربراہ کارل اسکاؤنے کہا کہ غزہ میں غذائی تحفظ کی صورتحال میں کچھ بہتری آئی ہے، لیکن یہ بہت نازک ہے اور آسانی سے دوبارہ خراب ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاندانوں کو اب بھی پانی، صفائی اور ادویات کی کمی کا سامنا ہے، اس لیے مسلسل امداد، مالی وسائل اور استحکام ضروری ہے تاکہ غزہ کے عوام بحالی کا عمل شروع کر سکیں۔اقوام متحدہ کے تعاون سے تیار کردہ عالمی غذائی تحفظ کے جائزے آئی پی سی کے مطابق غزہ کی 14 لاکھ آبادی، جو کل آبادی کا تقریباً 7فیصد بنتی ہے، اب بھی شدید غذائی عدم تحفظ کے بحران یا اس سے بدتر صورتحال کا شکار ہے۔یہ تعداد گزشتہ سال کے آخر میں موجود16 لاکھ افراد (77 فیصد آبادی)کے مقابلے میں کم ہوئی ہے، تاہم تقریباً 2لاکھ 12 ہزار افراداب بھی ہنگامی سطح کی غذائی قلت (آئی پی سی فیز 4) کا سامنا کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ان میں سے بہت سے افراد اسرائیلی کنٹرول والی نام نہاد **”یلو لائن”** کے قریب علاقوں میں رہتے ہیں، جہاں انسانی امداد اور بنیادی خدمات تک رسائی انتہائی محدود ہے۔اقوام متحدہ کے اداروں نے کہا کہ امدادی سرگرمیوں اور تجارتی سامان کی آمد میں اضافے سے حالات میں تیزی سے بہتری دیکھی گئی۔ اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد انسانی امدادی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔اداروں کے مطابق یہ صورتحال ستمبر 2025 کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے، جب صرف تقریباً **5 لاکھ افراد** کو کسی نہ کسی شکل میں خوراکی امداد مل رہی تھی اور کم عمر بچوں کے لیے غذائی سہولتوں کی رسائی ایک فیصد سے بھی کم تھی۔تاہم اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ صورتحال اب بھی غیر مستحکم ہے۔ خوراک کے راشن مقدار، معیار اور غذائی تنوع کے لحاظ سے ناکافی ہیں، جبکہ تازہ سبزیوں اور پروٹین والی غذاؤں کی تجارتی درآمدات بھی مسلسل نہیں ہیں۔اگرچہ غزہ میں امدادی رسائی بہتر ہوئی ہے، لیکن جنوبی علاقے میں صرف کرم شالوم/ابو سالم کراسنگ کھلی ہے، جس کے باعث ضروری اشیا کی ترسیل محدود ہے اور زیادہ تر آبادی اب بھی امداد پر انحصار کر رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق غذائی قلت کے مسائل میں بھی کمی آئی ہے، جس کی بڑی وجہ غذائی پروگراموں میں توسیع اور شدید و درمیانے درجے کی غذائی قلت کے علاج تک بہتر رسائی ہے۔ تاہم یہ بہتری مسلسل امداد، محفوظ پانی، صفائی کی سہولیات اور غذائیت سے بھرپور خوراک کی دستیابی پر منحصر ہے۔اقوام متحدہ کے اداروں نے اندازہ لگایا ہے کہ آئندہ ایک سال میں تقریباً74 ہزار بچوں کو شدید غذائی قلت کے علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے، جبکہ تقریباً **25 ہزار حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین** کو غذائی معاونت درکار ہوگی۔مزید برآں غزہ کے چار علاقوں شمالی غزہ، غزہ سٹی، دیر البلح اور خان یونس میں غذائی قلت کے خطرے کی سطح برقرار رہنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق مقامی معیشت اور روزگار کی مکمل بحالی ابھی شروع نہیں ہوئی، تاہم ابتدائی اشارے بتاتے ہیں کہ جہاں کسانوں اور مویشی پالنے والوں کو زمین، زرعی سامان، توانائی، پانی اور دیگر سہولیات تک رسائی ملے گی، وہاں مقامی خوراک کی پیداوار دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق بعض علاقوں میں مسلسل امداد کے نتیجے میں بھیڑوں کی تعداد میں **33 فیصد اضافہ** دیکھا گیا ہے، جبکہ کچھ برادریوں نے محدود پیمانے پر کاروباری سرگرمیاں بھی دوبارہ شروع کی ہیں۔اقوام متحدہ نے کہا کہ غزہ میں غذائی تحفظ کی بحالی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک مقامی خوراک کی پیداوار دوبارہ بحال نہ ہو اور کسانوں، ماہی گیروں، مویشی پالنے والوں سمیت دیگر شعبوں سے وابستہ افراد اپنے روزگار دوبارہ قائم نہ کر سکیں۔








