وزیراعظم کی قیادت میں ایف بی آر اصلاحات، کیش لیس معیشت اور ٹیکس نظام کی بہتری پر تیزی سے کام جاری ہے، محمد اورنگزیب

"حکومت ٹیکس نظام میں اصلاحات، ایف بی آر کی استعداد بڑھانے، کیش لیس معیشت کے فروغ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے مالیاتی نظام کو مزید مضبوط بنا رہی ہے۔” — وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

لاہور۔25جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت پاکستان ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات، ایف بی آر کی استعداد کار میں اضافے، کیش لیس معیشت کے فروغ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے ملک کے مالیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔

حکومت کا مقصد عوام کیلئے آسانیاں پیدا کرنا، ٹیکس دہندگان کا اعتماد بحال کرنا اور ایک ایسا شفاف نظام قائم کرنا ہے جو پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کی بنیاد بن سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو یہاں لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائینسز( لمز) میں ایف بی آر کے پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ پروگرام کی اختتامی اور سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین محمد راشد لنگڑیال سمیت فیکلٹی ممبران اور ڈپلومہ پروگرام مکمل کرنے والے افسران کی کثیر تعداد موجود تھی۔وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی انہیں ہر مرحلے پر بھرپور حمایت حاصل رہی ہے اور حکومت ٹیکس پالیسی اور ٹیکس انتظامیہ میں بہتری کے لیے مربوط انداز میں کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر میں ایک نیا ماڈل متعارف کرایا جا رہا ہے جس سے ادارے کی کارکردگی، شفافیت اور استعداد میں نمایاں بہتری آئے گی۔محمد اورنگزیب نے تربیتی پروگرام مکمل کرنے والے افسران کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اب ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، دیانت داری اور جدید علم کی بدولت ادارے میں مثبت تبدیلی لائیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ یہ افسران ایف بی آر کو ایک جدید، موثر اور عوام دوست ادارہ بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ جب پاکستان 2047 میں آزادی کے سو سال مکمل کرے گا تو 2026 میں شروع کیا گیا یہ پروگرام ایک ایسے سنگ میل کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے ادارہ جاتی اصلاحات اور تبدیلی کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں پاکستان کہاں کھڑا ہوگا اس کا انحصار ان فیصلوں پر ہے جو آج کیے جا رہے ہیں، اس لیے تمام متعلقہ اداروں اور افسران کو قومی ذمہ داری کے احساس کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم خصوصی طور پر ایف بی آر اصلاحات اور کیش لیس اکانومی کے فروغ پر توجہ دے رہے ہیں تاکہ معیشت کو دستاویزی شکل دی جا سکے، ٹیکس نیٹ کو وسعت دی جائے اور مالیاتی شفافیت کو فروغ ملے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس چوری کے ساتھ کوئی بھی ملک ترقی نہیں کر سکتا اس لیے حکومت ٹیکس چوری کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اصلاحاتی عمل کے آغاز پر ہدایت کی تھی کہ پہلے اپنے گھر سے آغاز کریں اور شوگر سیکٹر سے اصلاحات کا عمل شروع کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد سیمنٹ سیکٹر میں بھی نگرانی اور اصلاحاتی اقدامات کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سیلز ٹیکس چوری کے بڑے کیسز کا سراغ لگایا جس کے نتیجے میں ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ہوا اور قومی خزانے کو فائدہ پہنچا۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت مختلف قومی اداروں کے ساتھ مل کر ڈیٹا بیسز کو جدید خطوط پر استوار کر رہی ہے تاکہ معلومات کے تبادلے کو موثر بنایا جا سکے، ٹیکس چوری کی روک تھام ہو اور پالیسی سازی مزید بہتر انداز میں کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ڈیجیٹل نظام اور مربوط ڈیٹا ہی موثر ٹیکس انتظامیہ کی بنیاد ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ ایف بی آر کے افسران کو جدید ٹیکنالوجی خصوصاً مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) سے بھرپور فائدہ اٹھانا ہوگا کیونکہ آج کا دور اے آئی کا دور ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے ساتھ خود کو مسلسل اپ ڈیٹ رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ادارے کی کارکردگی عالمی معیار کے مطابق بنائی جا سکے۔وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ایف بی آر کے افسران پر ملک کے ٹیکس دہندگان کے اعتماد اور قومی وسائل کے تحفظ کی اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ عوام کا اعتماد ایف بی آر پر بحال ہو، صنعت اور مارکیٹ کا ماحول بہتر ہو اور اصلاحات کے ثمرات عام شہری تک پہنچیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے اصلاحاتی اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام ہے جو حکومت پاکستان اور لمز یونیورسٹی کے اشتراک سے مکمل کیا گیا ہے۔ انہوں نے لمز یونیورسٹی اور تمام شراکت دار اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تعاون سے ایک معیاری تربیتی پروگرام ممکن ہوا، جو ایف بی آر کے انسانی وسائل کی استعداد بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔انہوں نے تربیت مکمل کرنے والے افسران پر زور دیا کہ وہ ایمانداری، دیانت، پیشہ ورانہ مہارت اور قومی خدمت کے جذبے کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں اور پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور مضبوط معیشت کے لیے بھرپور کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو مل کر ایک بہتر، مستحکم اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کے لیے کام کرنا ہوگا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین محمد راشد لنگڑیال نے کہا کہ ایف بی آر کے افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تربیت موثر ٹیکس نظام کے قیام کے لیے ناگزیر ہے اسی مقصد کے تحت ایسے تربیتی پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں تاکہ ادارے کی کارکردگی مزید بہتر بنائی جا سکے۔چیئرمین ایف بی آر نے پروگرام میں کامیابی حاصل کرنے والے تمام افسران کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ جو افسران اس مرتبہ کامیاب نہیں ہو سکے وہ آئندہ سال مزید محنت کے ساتھ کامیابی حاصل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی کا راز مسلسل محنت اور لگن میں پوشیدہ ہے۔محمد راشد لنگڑیال نے کہا کہ ایف بی آر کی کوشش ہے کہ اس کے افسران ایسی صلاحیتوں اور قابلیت کے حامل ہوں جن سے نہ صرف ادارے بلکہ ملک کو بھی فائدہ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ٹیکس کے نظام کو مزید موثر، جدید اور شفاف بنایا جا رہا ہے جبکہ تمام افسران ایک منظم نظام کے تحت دیانت داری اور شفافیت کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انہیں ایف بی آر کے تمام افسران پر فخر ہے جو قومی خدمت کے جذبے کے ساتھ ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام اداروں کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ پاکستان ترقی کی راہ پر مزید آگے بڑھ سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہم سب کو مل کر ملک میں بہتر طرزِ حکمرانی اور ایک مضبوط نظام کے قیام کے لیے کام کرنا ہوگا۔ تقریب کے اختتام پر کورس میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے افسران میں ایوارڈز اور سرٹیفیکیٹس تقسیم کئے گئے۔