"پاکستان اور ازبکستان کے درمیان فارماسیوٹیکل شعبے میں تعاون، سرمایہ کاری اور مشترکہ کاروباری مواقع کے فروغ کے لیے روابط کو مزید مستحکم کیا جا رہا ہے۔”
پاکستانی کاروباری وفد کی ازبکستان کے ساتھ دواسازی کے شعبے میں تعاون کے امکانات پر بات چیت

مزید خبریں
اسلام آباد۔25جولائی (اے پی پی):پاکستان کے ایک اعلیٰ سطحی کاروباری وفد نےجس کی قیادت آذربائیجان۔پاکستان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سرپرست اعلیٰ اور ڈی واٹسن گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احسن ظفر بختاوری نے کی ازبکستان کی فارماسیوٹیکل انڈسٹری ڈویلپمنٹ ایجنسی کا دورہ کیا۔
اس موقع پر دواسازی، طبی آلات و سامان، صحت کی خدمات، تحقیق، سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں میں تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ہفتہ کو جاری بیان کے مطابق ملاقات میں ازبکستان کے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندوں نے بھی شرکت کی جس سے دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان روابط مضبوط بنانے اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔فارماسیوٹیکل انڈسٹری ڈویلپمنٹ ایجنسی کے چیف اسپیشلسٹ میرجلال نے وفد کو بتایا کہ ازبکستان میں ادویات اور طبی آلات کی مارکیٹ کا حجم تقریباً 2.5 ارب امریکی ڈالر ہے اورحکومت ملک کو وسطی ایشیا میں دواسازی کی تیاری اورسرمایہ کاری کا اہم مرکز بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ دواسازی کے شعبے میں 32 سرمایہ کاری منصوبے زیر عمل ہیں اور پاکستانی کمپنیوں کو مینوفیکچرنگ یونٹس قائم کرنے یا مشترکہ منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے ہر ممکن سہولت اور تعاون فراہم کیا جائے گا۔میرجلال نے بتایا کہ ازبکستان میں 58 دوا ساز کمپنیاں قومی گڈ مینوفیکچرنگ پریکٹس (جی ایم پی) سرٹیفکیٹ کی حامل ہیں جبکہ ملک میں تیار کی جانے والی ادویات 55 بین الاقوامی منڈیوں کو برآمد کی جا رہی ہیں۔انہوں نے سرمایہ کاری پالیسیوں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کارپوریٹ انکم ٹیکس کی عمومی شرح 15 فیصد ہے جبکہ خصوصی فارماسیوٹیکل اکنامک زونز میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو مختلف مراعات بھی دی جا رہی ہیں۔ازبکستان کے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے شعبہ خارجہ اقتصادی سرگرمیوں کے ڈائریکٹر سیدنذرخانوف سیدکامل نےپاکستانی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان قریبی اور تزویراتی تعلقات موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ چیمبر پاکستانی کاروباری وفود کو متعلقہ کمپنیوں، سرکاری اداروں اور کاروباری تنظیموں سے رابطے میں معاونت فراہم کرتا ہے اوردواسازی دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے سب سے امید افزا شعبوں میں سے ایک ہے۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ازبکستان کا چیمبر پاکستانی کمپنیوں کو مقامی شراکت داروں کی تلاش، کاروباری روابط کے قیام اور فری اکنامک و خصوصی فارماسیوٹیکل زونز میں دستیاب سہولیات سے فائدہ اٹھانے میں مکمل تعاون فراہم کرے گا۔احسن ظفر بختاوری نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کی دواسازی کی صنعت مضبوط بنیادوں پر قائم ہے اور معیاری ادویات، طبی سامان اور صحت کی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ازبکستان اپنی وسعت پذیر مقامی منڈی، وسطی ایشیا میں تزویراتی محل وقوع، سرمایہ کار دوست پالیسیوں اور مقامی فارماسیوٹیکل مینوفیکچرنگ پر بڑھتی ہوئی توجہ کے باعث پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش مواقع فراہم کرتا ہے۔انہوں نے مشترکہ سرمایہ کاری، جوائنٹ وینچرز اور ازبک شراکت داروں کے تعاون سے دواسازی کے پیداواری یونٹس قائم کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ احسن ظفر بختاوری نےپاکستان اور ازبکستان کےمتعلقہ اداروں، فارماسیوٹیکل ایسوسی ایشنز، چیمبرز آف کامرس اور کمپنیوں کے درمیان ادارہ جاتی روابط قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کاروباری وفود، مارکیٹ معلومات اور سرمایہ کاری تجاویز کاباقاعدہ تبادلہ دونوں ممالک کے مضبوط سیاسی تعلقات کو مؤثر اقتصادی اور تجارتی شراکت داری میں تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔متحدہ بزنس گروپ (ایف پی سی سی آئی) کے سیکرٹری جنرل ظفر بختاوری نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے نجی شعبوں کے درمیان قریبی تعاون دواسازی سمیت دیگرترجیحی شعبوں میں دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ازبکستان کا چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری پاکستان کے ممتاز چیمبرز آف کامرس کے ساتھ باضابطہ تعاون کا آغاز کرے۔







