وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر سیف الرحمن نے کہا ہے کہ پاکستان جدید مقامی بحری جہازوں کے ذریعے مچھلی اور دیگر سمندری خوراک برآمد کرکے سالانہ تقریبا 5 ارب ڈالر کا اضافی زرمبادلہ حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان زیادہ تر ٹونا اور دیگر سمندری مصنوعات خام یا نیم تیار حالت میں برآمد کرتا ہے
شپنگ انڈسٹری کو فروغ دے کر سالانہ اربوں ڈالر زرمبادلہ کما یا جاسکتا ہے، سیف الرحمن

مزید خبریں
لاہور۔26جولائی (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر سیف الرحمن نے کہا ہے کہ پاکستان جدید مقامی بحری جہازوں کے ذریعے مچھلی اور دیگر سمندری خوراک برآمد کرکے سالانہ تقریبا 5 ارب ڈالر کا اضافی زرمبادلہ حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان زیادہ تر ٹونا اور دیگر سمندری مصنوعات خام یا نیم تیار حالت میں برآمد کرتا ہے، جبکہ دیگر ممالک انہیں پراسیس اور برانڈ کرکے زیادہ منافع کماتے ہیں۔ اتوار کو ندا طارق چوہدری کی سربراہی میں برآمد کنندگان کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تقریبا95 فیصد سمندری تجارت غیر ملکی شپنگ کمپنیوں کے ذریعے ہوتی ہے، جس کے باعث ہر سال تقریبا5 ارب ڈالر فریٹ کی مد میں بیرون ملک چلے جاتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت نجی شعبے کی شراکت سے جدید بحری جہازوں کی تیاری، شپنگ انڈسٹری کے فروغ اور سمندری خوراک کی ویلیو ایڈیشن کے لیے مراعات دے تاکہ پاکستان اپنی بحری صلاحیت سے بھرپور معاشی فائدہ حاصل کر سکے۔








