گرین پاکستان انیشی ایٹو کی معاونت سے بنجر زمینوں کی بحالی، جدید زراعت اور بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ حاصل ہوا ہے، اوورسیز پاکستانی غلام مصطفیٰ

گرین پاکستان انیشی ایٹو کی بدولت بنجر زمینوں کی بحالی، جدید زرعی نظام فروغ پا رہا ہے اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔اوورسیز پاکستانی غلام مصطفیٰ نے کہا ہے کہ گرین پاکستان انیشی ایٹو نے رکھ غلاماں میں زمین فراہم کی، جہاں 1,100 ایکڑ پر کاشت کی جا رہی ہے

اسلام آباد۔26جولائی (اے پی پی):گرین پاکستان انیشی ایٹو کی بدولت بنجر زمینوں کی بحالی، جدید زرعی نظام فروغ پا رہا ہے اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔اوورسیز پاکستانی غلام مصطفیٰ نے کہا ہے کہ گرین پاکستان انیشی ایٹو نے رکھ غلاماں میں زمین فراہم کی، جہاں 1,100 ایکڑ پر کاشت کی جا رہی ہے،رکھ غلاماں کی 10 ہزار ایکڑ بنجر زمین میں سے دو سال میں 50 فیصد رقبہ دوبارہ قابلِ کاشت بنایا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت فارم پر گندم، چنا اور کینولا کی کاشت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرین پاکستان انیشی ایٹو کے اشتہار سے متاثر ہو کر بطور پائینئر اس منصوبے کا حصہ بننے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ گرین پاکستان انیشی ایٹو بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کر رہا ہے،پاکستان کا مستقبل زرعی زمین سے وابستہ ہے، دنیا میں خوراک کا مسئلہ بڑھ رہا ہے، دو سال کی محنت کے بعد ہماری پیداوار مارکیٹ میں آ رہی ہے۔ غلام مصطفیٰ نے کہا کہ گرین پاکستان انیشی ایٹو کی معاونت سے سینٹرل پیوٹ، جدید آبپاشی، درآمدی ٹریکٹرز اور جدید زرعی مشینری استعمال کر رہے ہیں،گرین پاکستان انیشی ایٹو کی رہنمائی سے پی ایچ ڈی زرعی ماہر ہر وقت دستیاب رہتے ہیں اور باقاعدگی سے فارم کا معائنہ کرتے ہیں، گرین پاکستان انیشی ایٹو جدید زرعی آلات، ہائی ٹیک فارمنگ اور نئی ٹیکنالوجی اپنانے میں مسلسل رہنمائی فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک 12 سے 13 سال گزارنے کے بعد پاکستان واپس آیا، گرین پاکستان انیشی ایٹو نے اپنی سرزمین پر کام کرنے کا بہترین موقع فراہم کیا ہے۔