مینگرووز کی بحالی بلیو اکانومی کے فروغ کےلئے ناگزیر ہے،وفاقی وزیر بحری امور

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کے مینگرووز جنگلات بحیرہ عرب کے ساحل کے تحفظ، ماہی گیری کے فروغ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں

اسلام آباد۔26جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کے مینگرووز جنگلات بحیرہ عرب کے ساحل کے تحفظ، ماہی گیری کے فروغ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، ان کے تحفظ اور بحالی کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔وزارت بحری امور کی جانب سے عالمی یوم مینگرووز کے موقع پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک کے مینگرووز ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ ساتھ بلیو اکانومی کے فروغ کا بھی اہم ذریعہ ہیں، جن کی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں دنیا کا سب سے بڑا خشک آب و ہوا والا مینگرووز جنگل موجود ہے، جو زیادہ تر سندھ کے انڈس ڈیلٹا میں پھیلا ہوا ہے جبکہ بلوچستان میں بھی اس کے چھوٹے رقبے موجود ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان اس وقت مینگرووز کے رقبے کے لحاظ سے دنیا میں تقریباً ساتویں نمبر پر ہے، تاہم مسلسل بحالی اور شجرکاری کے ذریعے چوتھے یا پانچویں نمبر تک پہنچ سکتا ہے۔جنید انوار چوہدری نے کہا کہ مینگرووز ساحلی کٹاؤ، سیلاب اور طوفانی لہروں کے خلاف قدرتی ڈھال کا کام کرتے ہیں جبکہ ساحلی آبادیوں، بندرگاہوں اور سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ مینگرووز کی تباہی سے غذائی تحفظ اور ماہی گیر برادریوں کا روزگار متاثر ہو سکتا ہے کیونکہ یہ جنگلات مچھلی، جھینگے، کیکڑے اور دیگر آبی حیات کی افزائش اور پرورش کے قدرتی مراکز ہیں، جن پر ماہی گیری اور ابھرتی ہوئی آبی زراعت کا انحصار ہے۔وفاقی وزیر نےکہا کہ پاکستان کی مینگرووز کاربن مارکیٹ کاربن کریڈٹس کی قیمتوں اور حجم کے لحاظ سے اندازاً سالانہ 2 کروڑ سے 5 کروڑ ڈالر تک آمدن پیدا کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں تقریباً 4,058 ہیکٹر رقبے پر پھیلے مینگرووز بھی ملک کی کاربن مارکیٹ کی حکمت عملی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مینگرووز خشکی کے عام درختوں کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ کاربن جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔انہوں نے ماضی میں تجاوزات، آلودگی اور دریائے سندھ کے پانی کے بہاؤ میں کمی کے باعث مینگرووز کو پہنچنے والے نقصان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) اور صوبائی ادارے ان کی بحالی کے لیے مختلف اقدامات کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ نے قابضین سے مینگرووز کے بعض علاقے واگزار کرائے ہیں جبکہ مائی کولاچی روڈ اور ملحقہ ساحلی علاقوں میں شجرکاری مہم شروع کرنے کے ساتھ ساتھ ہفتہ وار صفائی مہم بھی جاری ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ کے پی ٹی نے ماحولیاتی کارکن الماس کاسمانی کو ساحلی مینگرووز کی بحالی کے لیے سفیر بھی مقرر کیا ہے جنہوں نے اب تک 4 ہزار مینگرووز پودوں کی بحالی میں کردار ادا کیا ہے اور مزید ایک لاکھ پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔انہوں نے مینگرووز کے تحفظ کے لیے عوامی شعور اجاگر کرنے، تجاوزات کے خلاف قانون پر سختی سے عملدرآمد اور بلیو اکانومی کے منصوبوں میں سرکاری و نجی شعبے کی سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیا۔وفاقی وزیر بحری امور نے کہا کہ عالمی یوم مینگرووز کے موقع پر تمام متعلقہ اداروں اور شراکت داروں کو اپنے وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہوگا تاکہ ساحلی ماحولیاتی نظام کا تحفظ اور اس سے وابستہ معیشت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔