سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کی جانب سے سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی اور محمد خان بھٹی کی ضمانتیں منسوخ کرنے کے لیے دائر اپیلیں نمٹا دیں، جبکہ قرار دیا کہ اگر ملزمان ٹرائل کورٹ میں پیش نہ ہوں تو ٹرائل کورٹ قانون کے مطابق ان کی ضمانت خارج کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔
سپریم کورٹ نے پرویز الٰہی اور محمد خان بھٹی کی ضمانتیں منسوخ کرنے کی اپیلیں نمٹا دیں، ٹرائل کورٹ کو دو ہفتوں میں سماعت مکمل کرنے کی ہدایت

مزید خبریں
اسلام آباد۔28جولائی (اے پی پی):سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کی جانب سے سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی اور محمد خان بھٹی کی ضمانتیں منسوخ کرنے کے لیے دائر اپیلیں نمٹا دیں، جبکہ قرار دیا کہ اگر ملزمان ٹرائل کورٹ میں پیش نہ ہوں تو ٹرائل کورٹ قانون کے مطابق ان کی ضمانت خارج کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں بینچ نے منگل کو کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت پراسیکیوٹر پنجاب نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان اب تک 18 مرتبہ سماعت ملتوی کرا چکے ہیں۔اس پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ ملزمان ٹرائل کورٹ میں پیش کیوں نہیں ہو رہے۔پرویز الٰہی کے وکیل علی ظفر نے پراسیکیوٹر کے مؤقف کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حقائق کے برعکس ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پرویز الٰہی ایک سال تک جیل میں رہے جبکہ ابھی تک نہ چارج فریم ہوا ہے اور نہ ہی کوئی گواہ یا شواہد پیش کیے گئے ہیں۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ شواہد پیش کرنا پراسیکیوشن کی ذمہ داری ہے تاہم عدالت میں ملزمان کی حاضری لازمی ہے اور قانون سے غلط فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی کہ وہ دو ہفتوں کے اندر کیس کی سماعت کرے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر ملزمان ٹرائل کورٹ میں پیش نہ ہوں تو ٹرائل کورٹ قانون کے مطابق ان کی ضمانت منسوخ کرنے کا اختیار استعمال کر سکتی ہے۔








