اقوام متحدہ کے ادارے انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن نے خبردار کیا ہے کہ مجرمانہ نیٹ ورکس لاکھوں افراد کی سمگلنگ کر رہے ہیں، جن میں سے اکثر اعلیٰ تعلیم یافتہ اور روانی سے انگریزی بولنے والے ہیں تاکہ ان سے سائبر فراڈ کے مراکز میں کام لیا جا سکے۔
سائبر فراڈ کے مراکز میں کام کے لیے لوگوں کو ورغلانے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے ، انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔29جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ادارے انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن نے خبردار کیا ہے کہ مجرمانہ نیٹ ورکس لاکھوں افراد کی سمگلنگ کر رہے ہیں، جن میں سے اکثر اعلیٰ تعلیم یافتہ اور روانی سے انگریزی بولنے والے ہیں تاکہ ان سے سائبر فراڈ کے مراکز میں کام لیا جا سکے۔
مزید یہ کہ اس طرح کے کیسز کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔العربیہ کے مطابق انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) نے وضاحت کی کہ متاثرہ افراد کو اکثر جعلی ملازمت کے اشتہارات کے ذریعے ورغلایا جاتا ہے، جو زیادہ تر سوشل میڈیا کے ذریعے شائع کیے جاتے ہیں اور ان میں بیرونِ ملک کام کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ ان افراد کی شناختی دستاویزات ضبط کر لی جاتی ہیں اور تشدد، دھمکیوں اور قرضوں کی غلامی کے ذریعے سائبر فراڈ کی کارروائیوں میں حصہ لینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ ہم اس وقت اس طرح کےکیسز کی بڑی تعداد سامنے آتے دیکھ رہے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ 80 سے زائد مختلف ممالک کے متاثرین کو فراڈ کی کارروائیوں میں سمگل کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایسے افراد کو بھرتی کر رہے ہیں جو روانی سے انگریزی بولتے ہیں اور اکثر اعلیٰ ڈگریوں کے حامل ہوتے ہیں، یا ایک خاص تعلیمی معیار رکھتے ہیں۔ ایمی پوپ نے اشارہ کیا کہ یہ واقعات خاص طور پر ایشیا میں پھیل رہے ہیں۔ہجرت کے ادارے نے ڈرگز اینڈ کرائم پر اقوام متحدہ کے دفتر کے تخمینوں کا حوالہ دیا، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مشرقی ایشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں گذشتہ سال 114 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ خطے میں پھیلے ہوئے فراڈ کے کمپاؤنڈز میں سمگل کیے گئے لاکھوں کارکنان موجود ہو سکتے ہیں۔انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کی رپورٹ کے مطابق اس نے 2022 اور 2025 کے درمیان جبری جرائم کے شکار 3500 سے زائد افراد کو امداد فراہم کی ہے، جن کے آبا ئو اجداد کا تعلق تقریباً 40 ممالک سے ہے۔ سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں انڈونیشیا، بھارت، سری لنکا، ایتھوپیا، کینیا اور بنگلہ دیش کے شہری شامل تھے۔








