وفاقی تعلیمی بورڈ اسلام آباد نے ایس ایس سی پارٹ اول و دوم کے پہلے سالانہ امتحانات 2026 کے نتائج کا اعلان کر دیا

وفاقی تعلیمی بورڈ (ایف بی آئی ایس ای) اسلام آباد نے ایس ایس سی پارٹ اول و دوم کے پہلے سالانہ امتحانات 2026 کے نتائج کا اعلان کر دیا۔

اسلام آباد۔29جولائی (اے پی پی):وفاقی تعلیمی بورڈ (ایف بی آئی ایس ای) اسلام آباد نے ایس ایس سی پارٹ اول و دوم کے پہلے سالانہ امتحانات 2026 کے نتائج کا اعلان کر دیا۔

سائنس گروپ میں پہلی پوزیشن عفیرا اعجاز، 1089 نمبر، آرمی پبلک سکول اینڈ کالج فار گرلز، پاسبان راولپنڈی کینٹ نے حاصل کی، دوسری پوزیشن آمنہ نعمان، 1088 نمبر، آرمی پبلک سکول اینڈ کالج، مظفرآباد (آزاد کشمیر) اور تیسری پوزیشن حذیفہ حیدر، 1086 نمبر، فضائیہ انٹر کالج جناح کیمپ کھنہ روڈ راولپنڈی کینٹ نے حاصل کی۔ہیومینٹیز گروپ میں پہلی پوزیشن فاطمہ زہرا، 1037 نمبر، سی بی پبلک گرلز سکول اینڈ کالج آفیسر کالونی واہ کینٹ،مشترکہ دوسری پوزیشن محمد معاذ، 1031 نمبر، انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک سائنسز، سترہ میل (ایف اے)، اسلام آباد اور منال زاہد، 1031 نمبر ڈی ایچ اے سینئر سکول فار گرلز فیز فائیوڈی ایچ اے لاہور کینٹ نے حاصل کی ۔ تیسری پوزیشن انیسہ نثار، 1023 نمبر، پاکستان ایجوکیشن اکیڈمی دبئی متحدہ عرب امارات کے نام رہی۔نتائج کا اعلان بدھ کو وفاقی وزیر برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے ایک تقریب میں کیا۔ تقریب میں چیئرمین ایف بی آئی ایس ای پروفیسر ڈاکٹر اکرام علی ملک، ماہرین تعلیم، نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ، ان کے والدین، تعلیمی اداروں کے سربراہان اور بورڈ کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

بورڈ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ایس ایس سی پارٹ اول کے باقاعدہ امیدواروں کی تعداد ایک لاکھ 35 ہزار 353 تھی، جن میں سے 86 ہزار 68 کامیاب قرار پائے اور کامیابی کا تناسب 64.23 فیصد رہا۔ ایس ایس سی پارٹ دوم میں ایک لاکھ 23 ہزار 125 باقاعدہ امیدوار امتحان میں شریک ہوئے، جن میں سے ایک لاکھ 17 ہزار 218 کامیاب ہوئے اور کامیابی کا تناسب 95.69 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ نجی اور سابقہ امیدواروں کے نتائج کے مطابق ایس ایس سی پارٹ اول میں 14 ہزار 724 امیدواروں نے امتحان دیا، جن میں سے 2 ہزار 578 کامیاب ہوئے اور کامیابی کا تناسب 18.01 فیصد رہا، جبکہ ایس ایس سی پارٹ دوم میں 18 ہزار 528 امیدواروں میں سے 10 ہزار 852 کامیاب قرار پائے اور کامیابی کا تناسب 61.21 فیصد رہا۔مجموعی طور پر ایس ایس سی پارٹ اول میں ایک لاکھ 50 ہزار 77 امیدوار امتحان میں شریک ہوئے، جن میں سے 88 ہزار 646 کامیاب قرار پائے اور مجموعی کامیابی کا تناسب 59.77 فیصد رہا۔ اسی طرح ایس ایس سی پارٹ دوم میں ایک لاکھ 41 ہزار 653 امیدواروں میں سے ایک لاکھ 28 ہزار 70 کامیاب ہوئے اور مجموعی کامیابی کا تناسب 91.33 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کامیاب طلبہ، ان کے والدین اور اساتذہ کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ آج کی تقریب مستقبل کی کامیابیوں کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا میں جو خود کو وقت کے مطابق تبدیل نہیں کرتا، وہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتا ہے، جبکہ آئندہ چالیس برسوں میں دنیا مزید تیزی سے تبدیل ہوگی، اس لیے نوجوانوں کو علم، تحقیق اور جدید مہارتوں سے خود کو آراستہ کرنا ہوگا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ "علم مومن کی میراث ہے” اور اس میراث کو اپنی قومی و دینی روایات سے ہم آہنگ کرتے ہوئے آگے بڑھانا ہماری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تعلیم کے میدان میں ایک مثبت تبدیلی نمایاں ہو رہی ہے اور طالبات مسلسل نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق امسال ٹاپ پوزیشنز حاصل کرنے والے دس نمایاں طلبہ میں سے سات طالبات ہیں، جو ملک میں خواتین کی تعلیمی ترقی کا واضح ثبوت ہے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کل کی تعلیم کا معیار آج متعین کرنا ہوگا، وفاقی دارالحکومت کا تعلیمی نظام دیگر صوبوں کے لیے ایک مثالی ماڈل بننا چاہیے اور تعلیمی اداروں میں ایسا سازگار ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں طلبہ اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک عظیم قوم ہے اور ہمیں تعلیم، کردار اور کارکردگی کے ذریعے اس عظمت کی عکاسی کرنی چاہیے۔چیئرمین ایف بی آئی ایس ای پروفیسر ڈاکٹر اکرام علی ملک نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امتحانی نظام میں شفافیت، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور بورڈ کی کارکردگی پر روشنی ڈالی اور کامیاب طلبہ کو مبارک باد پیش کی۔ وفاقی تعلیمی بورڈ کے مطابق نتائج سرکاری ویب سائٹ پر جاری کر دیے گئے ہیں جبکہ امیدواروں کو ان کے رجسٹرڈ موبائل نمبروں پر بھی نتائج ارسال کیے گئے ہیں۔ امیدوار اپنا رول نمبر FB کے ساتھ 5050 پر ایس ایم ایس کر کے بھی نتیجہ معلوم کر سکتے ہیں۔ بورڈ کے مطابق باقاعدہ امیدواروں کے رزلٹ کارڈ متعلقہ تعلیمی اداروں کو ارسال کیے جا رہے ہیں جبکہ نجی امیدواروں کے رزلٹ کارڈ ان کے فراہم کردہ پتوں پر بھجوائے جائیں گے۔ بیرون ملک امیدواروں کے نتائج متعلقہ اداروں کے سربراہان کے ذریعے ارسال کیے جائیں گے۔رزلٹ گزٹ کے مطابق امسال نقل کے 24 مقدمات رپورٹ ہوئے جن کا ضابطے کے مطابق فیصلہ کر دیا گیا ہے اور متعلقہ نوٹیفکیشن گزٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ مزید برآں جن امیدواروں کے نتائج فیس یا اہلیت سے متعلق معاملات کی وجہ سے روک لیے گئے ہیں، انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مطلوبہ کوائف جلد مکمل کریں تاکہ ان کے نتائج جاری کیے جا سکیں۔

مزید خبریں