آسٹریلیا کے آن لائن سیفٹی ریگولیٹر نے میسجنگ پلیٹ فارم ٹیلیگرام کے خلاف دہشت گردی سے متعلق مواد بروقت نہ ہٹانے کے الزام میں وفاقی عدالت سے رجوع کرتے ہوئے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
آسٹریلیا نے دہشت گردی سے متعلق مواد نہ ہٹانے پر ٹیلیگرام کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی

مزید خبریں
اسلام آباد۔30جولائی (اے پی پی):آسٹریلیا کے آن لائن سیفٹی ریگولیٹر نے میسجنگ پلیٹ فارم ٹیلیگرام کے خلاف دہشت گردی سے متعلق مواد بروقت نہ ہٹانے کے الزام میں وفاقی عدالت سے رجوع کرتے ہوئے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
شنہوا کے مطابق آسٹریلیا کے آفس آف دی ای سیفٹی کمشنر نے جاری بیان میں کہا کہ ٹیلیگرام نے ملکی آن لائن سیفٹی قوانین کے تحت عائد حفاظتی ذمہ داریوں پر عمل نہیں کیا۔ریگولیٹر کا مؤقف ہے کہ آسٹریلوی صارفین کی جانب سے نشاندہی کے باوجود ٹیلیگرام نے عوامی طور پر شیئر کیے گئے دہشت گردی کی حمایت پر مبنی مواد، جن میں دہشت گردوں کی جانب سے کی جانے والی پھانسیوں کی ویڈیوز بھی شامل تھیں، بروقت حذف نہیں کیں۔بیان کے مطابق، نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں 2019 میں مساجد پر ہونے والے حملے اور 2022 میں امریکی شہر بفیلو میں فائرنگ کے واقعے کی ویڈیوز تقریباً تین ماہ تک ٹیلیگرام پر دستیاب رہیں، جس کے بعد انہیں ہٹایا گیا۔
آسٹریلوی قوانین کے تحت آن لائن سیفٹی کے ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر5 کروڑ 46 لاکھ آسٹریلوی ڈالر تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ای سیفٹی کمشنر جولی اِنمین گرانٹ نے کہا کہ گزشتہ دسمبر میں بونڈائی میں دہشت گرد حملے کے بعد ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے کہ وہ شہریوں کو نقصان دہ آن لائن مواد سے محفوظ رکھیں۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی پلیٹ فارم قانون سے بالاتر نہیں، اور ای سیفٹی آسٹریلوی شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنے تمام قانونی اختیارات استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔آسٹریلیا کی وزیر برائے مواصلات انیکا ویلز نے بھی واضح کیا کہ حکومت ان ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے کوئی رعایت نہیں رکھتی جو دہشت گردی کے حامی مواد کی روک تھام، نشاندہی اور اسے ہٹانے میں ناکام رہتی ہیں۔







