کانگو میں ایبولا وبا قابو سے باہر، اقوام متحدہ نے ہنگامی اقدامات تیز کرنے کا مطالبہ کر دیا

اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی ) میں پھیلنے والی ایبولا وبا کے خلاف امدادی کارروائیوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ کیا جائے، کیونکہ بیماری کا پھیلاؤ موجودہ ردعمل کی رفتار سے کہیں زیادہ تیز ہو چکا ہے۔

اقوام متحدہ ۔30جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی ) میں پھیلنے والی ایبولا وبا کے خلاف امدادی کارروائیوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ کیا جائے، کیونکہ بیماری کا پھیلاؤ موجودہ ردعمل کی رفتار سے کہیں زیادہ تیز ہو چکا ہے۔

شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے سینئر ایبولا کوآرڈینیٹر جولین ہارنیس اور عالمی ادارہ خوراک (ڈبلیوایف پی ) کے قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر کارل اسکاؤ نے بدھ کو جمہوریہ کانگو کے صوبہ اِتوری کے دارالحکومت بنیا سے آن لائن بریفنگ میں یہ اپیل کی۔جولین ہارنیس نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کانگو میں ایبولا کے باعث 50 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور کیسز تقریباً ہر 20 دن میں دوگنے ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وبا کے پھیلاؤ اور امدادی کوششوں کے درمیان فرق مسلسل بڑھ رہا ہے۔کارل اسکاؤ نے کہا کہ جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی موجودہ وبا اب تک کا سب سے تیزی سے پھیلنے والا بحران ہے۔ انہوں نے موازنہ کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ دو ماہ میں کانگو میں ایک ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ مغربی افریقہ میں ایک ہزار اموات تک پہنچنے میں آٹھ ماہ لگے تھے۔

اقوام متحدہ کے حکام نے ایبولا سے نمٹنے کے لیے امدادی سرگرمیوں میں بڑے پیمانے پر اضافے، مزید فنڈز، طبی سامان، ماہر ٹیموں اور متاثرہ علاقوں تک رسائی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔کارل اسکاؤ کے مطابق، مشرقی کانگو میں جاری طویل تنازعے کے باعث تقریباً ایک کروڑ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ ایبولا کا مرکز بننے والا صوبہ اِتوری بھی سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہے، جہاں تقریباً 20 لاکھ افراد کو غذائی امداد کی ضرورت ہے۔ہارنیس نے رکن ممالک سے اپیل کی کہ وہ اپنی سرحدیں کھلی رکھیں تاکہ ایبولا سے نمٹنے والی ٹیمیں متاثرہ ملک تک پہنچ سکیں، امدادی سامان تیزی سے منتقل کیا جا سکے اور عملہ ضرورت کے مطابق سفر کر سکے۔انہوں نے بتایا کہ جمہوریہ کانگو کے لیے اقوام متحدہ کے انسانی امدادی منصوبے کو 2.1 ارب امریکی ڈالر درکار ہیں، تاہم اب تک صرف 45 فیصد فنڈز ہی فراہم کیے گئے ہیں۔کارل اسکاؤ نے کہا کہ عالمی ادارہ خوراک کو کانگو میں ایبولا ردعمل کے لیے آئندہ چھ ماہ کے دوران 76 ملین امریکی ڈالر درکار ہیں، جو صرف رسد اور انتظامی امور کے لیے ہیں، خوراک کی فراہمی اس میں شامل نہیں۔