وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے ایک ملین ’’یوتھ ڈیولپمنٹ ایڈووکیٹس‘‘ تیار کرنے کے قومی پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج نئی پالیسیاں بنانا نہیں بلکہ قومی پالیسیوں پر سیاسی تبدیلیوں سے بالاتر ہو کر تسلسل کے ساتھ مؤثر عملدرآمد یقینی بنانا ہے۔
احسن اقبال کا ایک ملین یوتھ ڈیولپمنٹ ایڈووکیٹس تیار کرنے کا اعلان، پالیسیوں کے تسلسل کو قومی ترقی کی کنجی قرار دے دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔30جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے ایک ملین ’’یوتھ ڈیولپمنٹ ایڈووکیٹس‘‘ تیار کرنے کے قومی پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج نئی پالیسیاں بنانا نہیں بلکہ قومی پالیسیوں پر سیاسی تبدیلیوں سے بالاتر ہو کر تسلسل کے ساتھ مؤثر عملدرآمد یقینی بنانا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) پاکستان اور وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے اشتراک سے منعقدہ "اسٹریٹجک ڈائیلاگ اور ڈیولپمنٹ ایڈووکیٹ پاکستان رپورٹ” کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ اس قومی پروگرام کے تحت ملک بھر کے نوجوانوں کو علم، قائدانہ صلاحیتوں، مؤثر ابلاغ اور کمیونٹی انگیجمنٹ کی تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اپنی اپنی برادریوں میں تعلیم، صحت، صفائی، ماحولیاتی تحفظ، آبادی سے متعلق آگاہی اور سماجی ترقی کے فروغ میں فعال کردار ادا کر سکیں۔احسن اقبال نے کہا کہ دنیا کے وہ ممالک جو ترقی یافتہ بنے، انہوں نے اپنی قومی ترجیحات اور ترقیاتی حکمت عملیوں پر 10 سے 15 سال تک مستقل مزاجی سے عمل کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی ترقی بھی اسی وقت ممکن ہے جب قومی پالیسیوں کو سیاسی تبدیلیوں سے محفوظ رکھتے ہوئے تسلسل کے ساتھ نافذ کیا جائے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اس وقت تیزی سے بڑھتی آبادی، کم شرح خواندگی، لاکھوں بچوں کے اسکولوں سے باہر ہونے، غذائی قلت، ہیپاٹائٹس سی، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر سماجی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ان مسائل کا حل صرف بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں نہیں بلکہ انسانی ترقی، سماجی شعور اور ذمہ دار شہری رویوں کے فروغ میں مضمر ہے۔انہوں نے کہا کہ "اڑان پاکستان” انہی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک جامع قومی اصلاحاتی فریم ورک ہے، جس کے تحت تعلیم، صحت، آبادی کے مؤثر انتظام، خواتین اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے، جدید ٹیکنالوجی، موسمیاتی لچک اور انسانی وسائل کی ترقی کو قومی ترجیح دی جا رہی ہے۔
احسن اقبال نے بتایا کہ حکومت قومی آبادی کونسل کے ذریعے آبادی کے مؤثر انتظام کو فروغ دے رہی ہے، جبکہ اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کو ہیپاٹائٹس سی سے پاک بنانے کی مہم بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماجی شعبوں میں بہتری کے لیے صوبوں کے ساتھ تعاون مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے اور ایک ملین یوتھ ڈیولپمنٹ ایڈووکیٹس کے ذریعے ملک بھر میں کمیونٹی سطح پر مثبت سماجی تبدیلی کی قیادت کو فروغ دیا جائے گا۔وفاقی وزیر نے پالیسی سازوں، جامعات، ذرائع ابلاغ، ترقیاتی شراکت داروں اور سول سوسائٹی پر زور دیا کہ وہ پاکستان کی پائیدار، جامع اور طویل المدتی ترقی کے مشترکہ قومی ایجنڈے پر متحد ہو کر اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ آج اصل امتحان نئی پالیسیاں بنانے کا نہیں بلکہ ان پر مستقل اور مؤثر عملدرآمد کا ہے۔ کامیابی کا راز صرف ایک ہے: پالیسی پر عملدرآمد۔








