اقوام متحدہ سلامتی کونسل اصلاحات پر مذاکرات 81ویں اجلاس تک ملتوی، پاکستان کا اختلافات کم کرنے پر زور

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے سلامتی کونسل میں اصلاحات سے متعلق بین الحکومتی مذاکرات کو آئندہ 81ویں اجلاس تک جاری رکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

اقوام متحدہ ۔30جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے سلامتی کونسل میں اصلاحات سے متعلق بین الحکومتی مذاکرات کو آئندہ 81ویں اجلاس تک جاری رکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

پاکستان نے اس عمل کو 15 رکنی سلامتی کونسل کو زیادہ مؤثر اور نمائندہ بنانے کے لیے "واحد جائز فورم” قرار دیتے ہوئے اختلافات کم کرنے پر زور دیا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے 193 رکنی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل میں اصلاحات اقوام متحدہ کے سامنے موجود سب سے اہم ادارہ جاتی اقدامات میں شامل ہیں۔جنرل اسمبلی نے بغیر ووٹنگ کے فیصلہ کیا کہ اصلاحاتی مذاکرات کو ستمبر میں شروع ہونے والے 81ویں اجلاس میں بھی جاری رکھا جائے گا۔ یہ عمل اب 18ویں سال میں داخل ہو چکا ہے، جس کے دوران 17 ادوار کے مذاکرات کے باوجود اہم معاملات پر اتفاق رائے حاصل نہیں ہو سکا۔سلامتی کونسل میں اصلاحات کے لیے جامع مذاکرات فروری 2009 میں شروع ہوئے تھے، جن میں پانچ اہم شعبوں رکنیت کے زمرے، ویٹو کا معاملہ، علاقائی نمائندگی، توسیع شدہ سلامتی کونسل کا حجم، اور کونسل کے طریقہ کار اور جنرل اسمبلی کے ساتھ تعلقات پر بات چیت جاری ہے۔اگرچہ سلامتی کونسل کی توسیع کے عمومی اصول پر کئی ممالک متفق ہیں، تاہم اس کی تفصیلات پر رکن ممالک کے درمیان شدید اختلافات برقرار ہیں۔بھارت، برازیل، جرمنی اور جاپان پر مشتمل گروپ آف فور (جی4) سلامتی کونسل میں مستقل نشستوں کے حصول کا مطالبہ کر رہا ہے اور کونسل میں 10 نئی نشستوں کے اضافے کی حمایت کرتا ہے، جن میں 6 مستقل اور 4 غیر مستقل نشستیں شامل ہیں۔

دوسری جانب، اٹلی اور پاکستان کی قیادت میں یونائٹنگ فار کنسنسس (یوایف سی )گروپ اضافی مستقل نشستوں کی مخالفت کرتا ہے اور طویل مدت کے لیے منتخب ہونے والی نئی غیر مستقل نشستوں کی تجویز پیش کرتا ہے، جن کے لیے دوبارہ انتخاب کا امکان بھی ہو۔اس وقت سلامتی کونسل پانچ مستقل ارکان برطانیہ، چین، فرانس، روس اور امریکااور 10 غیر مستقل ارکان پر مشتمل ہے، جنہیں دو سال کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اصلاحات سے متعلق تمام پانچ شعبے ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں، اس لیے مذاکرات اس اصول کے تحت جاری رہنے چاہئیں کہ "جب تک ہر معاملے پر اتفاق نہیں ہوتا، کسی معاملے پر اتفاق نہیں سمجھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حقیقی پیش رفت کا اندازہ اس بات سے لگایا جائے گا کہ رکن ممالک اختلافات کو کتنا کم کرتے ہیں اور وسیع تر سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنے میں کتنی کامیابی حاصل کرتے ہیں۔

پاکستانی مندوب نے خبردار کیا کہ ایسی اصلاحات جنہیں وسیع تر رکنیت کا اعتماد حاصل نہ ہو، ایک مؤثر اور نمائندہ سلامتی کونسل کے لیے پائیدار بنیاد فراہم نہیں کر سکتیں۔انہوں نے مذاکرات کے شریک سربراہان، کویت کے سفیر طارق البنعلی اور نیدرلینڈز کی سفیر لیز گریگوائر فان ہارن، کی کوششوں کو بھی سراہا جنہوں نے "علاقائی مقررہ مدت نشستوں” کی تجویز کے ذریعے نئے خیالات اور اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی۔پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ پاکستان ایسی نشستوں کو مستقل رکنیت کے زمرے میں شامل کرنے کی حمایت نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی نشستیں خودمختار مساوات، وقتاً فوقتاً تبدیلی، جمہوری جواز اور احتساب کے اصولوں سے ہم آہنگ ہونی چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی اصلاحات کا مقصد نمائندگی اور شمولیت میں اضافہ ہونا چاہیے، نہ کہ ایک قسم کی اجارہ داری کو دوسری قسم کی اجارہ داری سے تبدیل کرنا۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان سلامتی کونسل کی جامع اصلاحات کے لیے پرعزم ہے، جس کا اصول "سب کے لیے اصلاحات، کسی کے لیے خصوصی مراعات نہیں” ہونا چاہیے۔