اچانک اشتعال، پیشگی منصوبہ بندی و ثابت شدہ محرک کے بغیر قتل دفعہ 302(سی) کے زمرے میں آ سکتا ہے، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے اہم قانونی اصول طے کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر قتل کا واقعہ کسی طویل دشمنی، پیشگی منصوبہ بندی یا ثابت شدہ محرک کے بغیر اچانک اشتعال کی کیفیت میں پیش آئے تو ایسے مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302(بی) کے بجائے دفعہ 302(سی) کا اطلاق ہو سکتا ہے۔

اسلام آباد۔30جولائی (اے پی پی):سپریم کورٹ نے اہم قانونی اصول طے کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر قتل کا واقعہ کسی طویل دشمنی، پیشگی منصوبہ بندی یا ثابت شدہ محرک کے بغیر اچانک اشتعال کی کیفیت میں پیش آئے تو ایسے مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302(بی) کے بجائے دفعہ 302(سی) کا اطلاق ہو سکتا ہے۔

عدالت نے نوعمر ملزم محمد ناصر حسین کی عمر قید کی سزا کو 14 سال قید میں تبدیل کرتے ہوئے جیل پٹیشن کو اپیل میں بدل کر جزوی طور پر منظور کر لیا۔ جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی جانب سے تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا ہےکہ استغاثہ کے مطابق 2018 میں میان چنوں میں گھریلو تنازعے کے دوران ملزم نے چاقو کے دو وار کر کے مقتول ظہور احمد کو قتل کیا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے ملزم کو دفعہ 302(بی) کے تحت عمر قید اور دو لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کی سزا سائی جبکہ لاہور ہائی کورٹ نے بھی اس سزا کو برقرار رکھا ۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگرچہ عینی شہادت اور طبی شواہد سے ملزم کی جانب سے مہلک وار ثابت ہوتے ہیں، تاہم مقدمے کے ریکارڈ سے یہ بھی واضح ہے کہ فریقین کے درمیان کوئی پرانی دشمنی موجود نہیں تھی، استغاثہ کا بیان کردہ محرک بھی ثابت نہ ہو سکا اور وقوعہ اچانک پیدا ہونے والی کشیدگی کے دوران پیش آیا۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ ملزم جو اس وقت نابالغ تھا اپنی والدہ کو مقتول کے ساتھ جھگڑتے دیکھ کر شدید اور اچانک اشتعال میں آ گیا، اپنا توازن کھو بیٹھا اور اسی لمحے واردات کا ارتکاب کیا لہٰذا یہ قتل عمد کی وہ صورت نہیں بنتی جس پر دفعہ 302(بی) کا اطلاق ہو۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ مقدمہ دفعہ 302(سی)کے چاروں حدود میں آتا ہے اس لیے ملزم کی عمر قید کی سزا ختم کرتے ہوئے اسے 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی جاتی ہے۔ عدالت نے دو لاکھ روپے ہرجانہ، عدم ادائیگی کی صورت میں اضافی سزا اور ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 382-بی کا فائدہ بھی برقرار رکھا۔