وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ غیر یقینی عالمی حالات، جغرافیائی کشیدگی، توانائی کی عالمی رسد میں رکاوٹوں اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود پاکستان معاشی استحکام کے سفر کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔
معاشی استحکام سے پائیدار ترقی کی جانب سفر، مالی سال 2026-27 میں 4 فیصد شرح نمو کا ہدف، ‘اڑان پاکستان’ کے تحت اصلاحات مزید تیز کی جائیں گی، احسن اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد۔30جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ غیر یقینی عالمی حالات، جغرافیائی کشیدگی، توانائی کی عالمی رسد میں رکاوٹوں اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود پاکستان معاشی استحکام کے سفر کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔
حکومت کی اولین ترجیح مشکل فیصلوں سے حاصل ہونے والے معاشی استحکام کو ہر قیمت پر برقرار رکھتے ہوئے اسے پائیدار ترقی، سرمایہ کاری، روزگار اور عوامی خوشحالی میں تبدیل کرنا ہے۔وزارتِ منصوبہ بندی کی ماہانہ ترقیاتی رپورٹ برائے جولائی 2026 کے اجرا اور نئے مالی سال 2026-27 کے اہداف و حکمت عملی کے آغاز پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ موجودہ معاشی استحکام عوام کی قربانیوں، بہتر مالی نظم و ضبط اور مؤثر معاشی فیصلوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ "اڑان پاکستان” کے تحت معاشی استحکام کو مشترکہ خوشحالی میں تبدیل کرنے کی رفتار مزید تیز کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی معیشت نے مضبوط بحالی کا مظاہرہ کیا اور شرح نمو 3.2 فیصد سے بڑھ کر 3.7 فیصد تک پہنچ گئی۔ انہوں نے بتایا کہ زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، صنعتی شعبے کی 3.5 فیصد جبکہ خدمات کے شعبے کی شرح نمو 4.1 فیصد رہی، جس سے مجموعی معاشی سرگرمیوں میں نمایاں بہتری آئی۔ ان کے مطابق جولائی تا مئی لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں 5.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گزشتہ سال کی منفی 1.1 فیصد نمو کے مقابلے میں صنعتی شعبے نے نمایاں بحالی دکھائی۔
انہوں نے کہا کہ 22 میں سے 16 بڑے صنعتی شعبوں نے مثبت ترقی کی، جبکہ گاڑیوں کی صنعت میں 58.8 فیصد کا غیرمعمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔احسن اقبال نے کہا کہ عالمی قیمتوں کے دباؤ کے باوجود مہنگائی کی شرح مقررہ ہدف سے کم رہی، جبکہ ترسیلاتِ زر 8.6 فیصد اضافے کے ساتھ 38.3 ارب ڈالر سے بڑھ کر 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جس سے نہ صرف لاکھوں خاندانوں کو سہارا ملا بلکہ ملک کی بیرونی معاشی پوزیشن بھی مضبوط ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ اشیا اور خدمات کی مجموعی برآمدات 40.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ خدمات کے شعبے کی برآمدات میں 18.7 فیصد اضافہ ہوا اور ان کا حجم 10 ارب ڈالر تک جا پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال اور درآمدات میں اضافے کے باوجود جاری کھاتوں کا خسارہ صرف 139 ملین ڈالر تک محدود رہا، جو بیرونی شعبے میں مضبوط مالی نظم و ضبط کا مظہر ہے۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اداروں نے بھی پاکستان کی معاشی اصلاحات، ادارہ جاتی استحکام اور زرمبادلہ ذخائر میں بہتری کا اعتراف کیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت اب معاشی استحکام کو پائیدار ترقی، سرمایہ کاری، برآمدات اور روزگار میں تبدیل کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ مالی سال 2026-27 کے لیے شرح نمو کا ہدف 4 فیصد مقرر کیا گیا ہے اور اس ہدف کے حصول کے دوران ماضی کے مالیاتی اور بیرونی عدم توازن سے ہر صورت بچنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ معاشی ترقی کا انحصار پیداواری صلاحیت، برآمدات، سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور نجی شعبے کے فعال کردار پر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت قوتِ خرید کے تحفظ، غربت میں کمی، کمزور طبقات کی معاونت، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور نوجوانوں کے لیے باعزت روزگار و کاروباری مواقع کی فراہمی کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ حکومت اوگرا کی مقررہ قیمتوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائے گی اور جعلی نوٹیفکیشنز، ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی، کرایوں اور مال برداری کے نرخوں میں بلاجواز اضافے کے خلاف کارروائی کی جائے گی، جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی بھی یقینی بنائی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں سے منسلک ہے اور عالمی قیمتوں میں کمی کی صورت میں اس کا فائدہ عوام تک منتقل کیا جائے گا۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ ایف بی آر کی محصولات 11.7 کھرب روپے سے بڑھ کر 13 کھرب روپے ہوگئیں، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے 15.2 کھرب روپے سے زائد محصولات کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالیاتی اصلاحات نے قومی خزانے کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ترقیاتی منصوبوں پر گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران سی ڈی ڈبلیو پی کے 21 اجلاسوں میں 330 ترقیاتی ایجنڈا نکات زیر غور آئے، جن میں سے 192 کی منظوری دی گئی جبکہ 96 منصوبے حتمی منظوری کے لیے ایکنک کو بھجوائے گئے۔ جون 2026 میں ہونے والے تین اجلاسوں میں 72 ایجنڈا نکات پر غور کیا گیا، جن میں سے 49 تجاویز منظور اور 21 ایکنک کو ارسال کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ منظور ہونے والے ترقیاتی منصوبوں سے تقریباً 2 لاکھ 89 ہزار براہِ راست اور 4 لاکھ 24 ہزار بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ منصوبوں کے معاشی و مالیاتی جائزے سے قومی خزانے کو 12.6 ارب روپے کی بچت بھی ہوئی۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے لیے اسمارٹ سٹی ماڈل، شہریوں کی شمولیت اور بہتر بلدیاتی نظام پر مبنی نیا ماڈل تجویز کیا گیا ہے تاکہ عوامی خدمات کی فراہمی مزید مؤثر بنائی جا سکے۔تعلیم اور نوجوانوں کے حوالے سے احسن اقبال نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کو صنعتی انقلابات 4.0 اور 5.0 کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جامعات کے نصاب اور ڈگری پروگرامز کا جامع جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل کی ضروریات کے مطابق نئے ڈگری پروگرام متعارف کرائے جائیں گے، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کو فروغ دیا جائے گا، جبکہ یو ایس۔پاکستان نالج کوریڈور پروگرام کو دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ دورۂ امریکہ کے دوران یونیورسٹی آف الینوائے نے پاکستان میں اپنا کیمپس قائم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں کو لیپ ٹاپ، ڈیجیٹل مہارتوں، سائبر سکیورٹی، سیٹلائٹ اور جینومکس سمیت جدید علوم سے آراستہ کیا جائے گا تاکہ وہ عالمی سطح پر قائدانہ کردار ادا کر سکیں۔احسن اقبال نے بتایا کہ "اڑان پاکستان” کے تحت صنعتکاروں، برآمد کنندگان اور کثیرالقومی کمپنیوں کے ساتھ اصلاحاتی مشاورت کا آغاز کر دیا گیا ہے اور حکومت 2029 تک برآمدات کو 63 ارب ڈالر تک لے جانے کے قومی ہدف کے حصول کے لیے کاروباری ماحول کو مزید بہتر بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ترکیہ، ازبکستان اور ڈنمارک کے ساتھ زراعت، تعلیم، تجارت، ٹرانسپورٹ، موسمیاتی مزاحمت، آبی وسائل، تحقیق، تکنیکی تعاون اور علم کے تبادلے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ جو معیشت چند برس قبل دیوالیہ پن کے دہانے پر کھڑی تھی، آج وہ بحالی اور استحکام کی راہ پر گامزن ہے۔ حکومت ایسے فیصلے کر رہی ہے جو طویل المدتی قومی مفاد میں ہیں اور جن کے ذریعے پاکستان کو پائیدار معاشی ترقی، مضبوط معیشت اور خوشحال مستقبل کی جانب لے جایا جائے گا۔







