"وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں خوراک و زراعت کی تنظیم (ایف اے او) کے ایشیا و بحرالکاہل کے لیے ڈپٹی ریجنل نمائندہ رابرٹ سمپسن نے شرکت کی۔”
وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس ، پاکستان اور ایف اے او کا پائیدار زراعت اور دیہی ترقی کے لئے مشترکہ اقدامات پر اتفاق

مزید خبریں
اسلام آباد۔31جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں خوراک و زراعت کی تنظیم (ایف اے او) کے ایشیا و بحرالکاہل کے لئے ڈپٹی ریجنل نمائندہ رابرٹ سمپسن نے شرکت کی۔
وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے جمعہ کو یہاں جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں جاری تعاون کا جائزہ لیا گیا اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زراعت، غذائی تحفظ اور پائیدار زرعی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وفاقی وزیر نے ایف اے او کے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ تنظیم کی دیرینہ شراکت داری کو سراہا اور زرعی شعبے اور غذائی نظام کو مضبوط بنانے میں ایف اے او کے تعاون کو قابلِ قدر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی کاربن اخراج میں نہایت معمولی حصہ ڈالنے کے باوجود موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے لہٰذا موسمیاتی لچک پیدا کرنے اور جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لئے ایف اے او کے مزید تکنیکی تعاون کی ضرورت ہے۔ایف اے او کے وفد نے وفاقی وزیر کو جاری تعاون کے اہم شعبوں سے آگاہ کیا جن میں ون ہیلتھ پروگرام، غذائی تحفظ، سینیٹری و فائٹو سینیٹری (ایس پی ایس) نظام، اینٹی مائیکروبیل مزاحمت (اے ایم آر)، پائیدار زرعی میکانائزیشن، دریائے سندھ بسین پروگرام کے تحت موسمیاتی لچک اور جی آئی ایس، ریموٹ سینسنگ اور ایگرو میٹرولوجیکل ٹیکنالوجیز کے ذریعے موسمیاتی لحاظ سے موزوں زراعت کا فروغ شامل ہیں۔رابرٹ سمپسن نے وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے اشتراک سے قومی موسمیاتی فورم کے انعقاد کی تجویز بھی پیش کی جس میں حکومت، ترقیاتی شراکت داروں اور نجی شعبے کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر زرعی شعبے میں موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے مشترکہ حکمتِ عملی مرتب کی جائے گی۔ وفاقی وزیر نے اس تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے حکومت کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے حکومت کی ترجیحات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت خوراک کے تحفظ اور ایس پی ایس نظام کو مزید مضبوط بنانے، ناسڈرا کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ تصدیق شدہ بیجوں کے فروغ، زرعی میکانائزیشن اور ذخیرہ گاہوں کی توسیع، فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز کے قیام، پسماندہ اضلاع میں "ایک ضلع، ایک پیداوار” منصوبے کے نفاذ، مویشیوں کی برآمدات میں اضافہ اور گندم و خوردنی تیل کی درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لئے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ایف اے او کے وفد نے وفاقی وزیر کو آگاہ کیا کہ اگرچہ تنظیم کے براہِ راست مالی وسائل محدود ہیں تاہم وہ پاکستان کے لئے بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں سے مالی وسائل کے حصول میں بھرپور معاونت جاری رکھے گی۔ اجلاس میں پاکستان کی غذائی پیداوار، غذائیت کی ضروریات اور پالیسی خلا سے متعلق ایف اے او کی آئندہ پالیسی رپورٹ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ علاوہ ازیں ون کنٹری، ون پرائرٹی پروڈکٹ (OCOP) پروگرام کا بھی جائزہ لیا گیا جس کے تحت پاکستان چلغوزہ کے ساتھ شریک ہے جبکہ چونسہ آم کو بھی اس پروگرام میں شامل کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔اجلاس کے اختتام پر دونوں فریقوں نے موسمیاتی لچک، پائیدار زراعت، لائیو اسٹاک کی ترقی اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ پاکستان کے کسانوں اور زرعی شعبے کی پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے








