پاکستان نے یو این ویمن جینڈر ریسپانسیو اے آئی سکول کا آغاز کیا ہے، ملک گیر اقدام کا مقصد مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے اخلاقی، جامع اور صنفی استعمال کا فروغ ہے۔
پاکستان کا انکلوسیو اے آئی کے فروغ کیلئے یو این ویمن جینڈر ریسپانسیو اے آئی اسکول کا آغاز

مزید خبریں
اسلام آباد۔1اگست (اے پی پی):پاکستان نے یو این ویمن جینڈر ریسپانسیو اے آئی سکول کا آغاز کیا ہے، ملک گیر اقدام کا مقصد مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے اخلاقی، جامع اور صنفی استعمال کا فروغ ہے۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن نے یو این ویمن پاکستان اور کوریا انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (KOICA) کے تعاون سے سکول کا آغاز کیا ہے ۔ جو پالیسی سازوں، سرکاری حکام، ارکان پارلیمنٹ، اقوام متحدہ کی ایجنسیوں، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی کی تنظیموں، کاروباری اداروں اور کمیونٹی لیڈروں کی مصنوعی ذہانت کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
اے آئی اسکول نظریاتی علم کو عملی تربیت کے ساتھ جوڑے گا، جس میں اے آئی کے بنیادی اصولوں، اخلاقی اور صنفی جوابدہ ، گورننس، پرامپٹ انجینئرنگ، ایجنٹس، پبلک ایڈمنسٹریشن اور جامع ترقی کے لیے مصنوعی ذہانت کے اطلاق پر کورسز پیش کیے جائیں گے۔تربیتی سرگرمیاں باضابطہ آغاز سے قبل بھی جاری تھیں جس میں سرکاری افسران، اراکین پارلیمنٹ، اقوام متحدہ کے اہلکاروں، ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے لیے مختلف شعبوں میں ذمہ دارانہ اے آئی مہارت کو تقویت دینے کے لیے موزوں سیشنز کا انعقاد کیا گیا۔
پاکستان یو این ویمن اے آئی سکول کے تحت مکمل قومی ٹریننگ آف ٹرینرز (ToT) ٹریک کی میزبانی کرنے والا جنوبی ایشیا کا پہلا ملک بھی بن گیا ہے۔2024 سے شروع اس پروگرام کے تحت علاقائی اقدام نے ایشیا اور بحرالکاہل میں 5 ہزار سے زیادہ پالیسی سازوں، اقوام متحدہ کے حکام، سول سوسائٹی کے اراکین اور نوجوان اختراع کاروں کو تربیت دی ہے۔اقوام متحدہ کے خواتین کے لئے پاکستان کے کنٹری نمائندہ جمشید ایم قاضی نے کہا کہ پاکستان خطے کا پہلا ملک ہے جس نے ایگزیکٹو، قانون سازی اور عدالتی شاخوں پر محیط قومی اے آئی تربیتی پروگرامز متعارف کرائے ہیں جبکہ سول سوسائٹی اور نجی شعبے کو بھی اس میں شامل کیا ہے۔
اس اقدام کا مقصد مصنوعی ذہانت کی پالیسی سازی میں صنفی تحفظات کے محدود انضمام کو حل کرنا ہے۔ اقوام متحدہ کی خواتین کے ادارہ کے مطابق دنیا بھر میں قومی اے آئی پالیسیوں کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ صنفی مسائل کو واضح طور پر حل کرتا ہے۔ اے آئی سکول کا مقصد پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی میں صنفی مساوات، شمولیت اور خواتین اور لڑکیوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو فروغ دینا ہے۔
پاکستان کی قومی اے آئی پالیسی مصنوعی ذہانت کی ترقی میں صنفی نقطہ نظر کو شامل کرنے اور پسماندہ خواتین اور معذور افراد کے لیے ڈیجیٹل مہارت کے پروگراموں کو وسعت دینے پر بھی زور دیتی ہے۔لانچ کی تقریب کے دوران وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن اور یو این ویمن پاکستان نے اے آئی ا سکول کو ادارہ جاتی بنانے اور قومی ملکیت کے تحت اس کے طویل مدتی نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے۔
وفاقی وزیر برائے آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن شازہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ اے آئی ہر شعبے کو نئی شکل دے رہا ہے اور پاکستان اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کو ملک کی ڈیجیٹل معیشت میں حصہ لینے اور قیادت کرنے کے مساوی مواقع میسر ہوں۔ کوریا انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی پاکستان کے ڈپٹی کنٹری ڈائریکٹر سودام بیک نے کہا کہ اس اقدام سے ڈیجیٹل مہارتوں کو تقویت ملے گی، اے آئی کے ذمہ دارانہ استعمال کی حوصلہ افزائی ہوگی اور پاکستان بھر میں خواتین اور لڑکیوں کے لیے مواقع بڑھیں گے۔








