"وفاقی حکومت کے کوہلو ترقیاتی پیکیج کے تحت 10 ترقیاتی منصوبوں پر مجموعی طور پر 7 ارب 91 کروڑ 50 لاکھ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جبکہ ان منصوبوں کی مجموعی منظور شدہ لاگت 7 ارب 95 کروڑ 80 لاکھ روپے ہے۔”
کوہلو ترقیاتی پیکیج کے تحت 10 منصوبوں پر 7.91 ارب روپے خرچ

مزید خبریں
اسلام آباد۔1اگست (اے پی پی):وفاقی حکومت کے کوہلو ترقیاتی پیکیج کے تحت 10 ترقیاتی منصوبوں پر مجموعی طور پر 7 ارب 91 کروڑ 50 لاکھ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جبکہ ان منصوبوں کی مجموعی منظور شدہ لاگت 7 ارب 95 کروڑ 80 لاکھ روپے ہے۔
ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق اس پیکیج میں سڑکوں، تعلیم، صحت، بجلی، پانی کی فراہمی اور آبپاشی کے شعبوں سے متعلق منصوبے شامل ہیں۔دستاویزات کے مطابق پیکیج کا سب سے بڑا منصوبہ سبی۔رکھنی روڈ کی تعمیر ہے، جو مائیوند کے راستے ٹلی۔کوہلو سیکشن (کلومیٹر 24 تا 164) پر مشتمل ہے۔ اس منصوبے کی منظور شدہ لاگت 6 ارب 54 کروڑ 50 لاکھ روپے ہے اور اتنی ہی رقم خرچ کیے جانے کی رپورٹ ہے۔اس کے علاوہ مختلف دیہات کو کوہلو شہر سے ملانے والی بلیک ٹاپ سڑکوں کی تعمیر پر 22 کروڑ 22 لاکھ 45 ہزار روپے خرچ کیے گئے، جو منصوبے کی منظور شدہ لاگت کے برابر ہیں۔کوہلو بائی پاس روڈ کی تعمیر پر بھی 19 کروڑ 78 لاکھ 60 ہزار روپے خرچ کیے گئے، جو اس منصوبے کی منظور شدہ لاگت کے مساوی ہیں۔تعلیم کے شعبے میں کیڈٹ کالج اور گورنمنٹ انٹر گرلز کالج کے منصوبے شامل ہیں۔کوہلو میں کیڈٹ کالج کے قیام کی منظور شدہ لاگت 21 کروڑ 87 لاکھ 54 ہزار روپے تھی، جو مکمل طور پر خرچ کیے جا چکے ہیں۔گورنمنٹ انٹر گرلز کالج کوہلو کی منظور شدہ لاگت 12 کروڑ 50 لاکھ روپے تھی، جبکہ اس پر اب تک 10 کروڑ 20 لاکھ 96 ہزار روپے خرچ کیے گئے ہیں۔صحت کے شعبے میں کوہلو میں 50 بستروں پر مشتمل اسپتال کے قیام کی منظور شدہ لاگت 22 کروڑ 57 لاکھ 4 ہزار روپے تھی، جبکہ اس منصوبے پر 20 کروڑ 50 لاکھ 94 ہزار روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔بجلی کے شعبے میں کوہلو میں 132 کے وی گرڈ اسٹیشن کی تعمیر شامل ہے، جس کی منظور شدہ لاگت 33 کروڑ 4 لاکھ 30 ہزار روپے ہے، اور اتنی ہی رقم خرچ ہونے کی رپورٹ ہے۔اسی طرح کوہلو ضلع میں مست توالکی تک 11 کے وی ٹمبو فیڈر کی تنصیب پر ایک کروڑ روپے خرچ کیے گئے، جو منصوبے کی مکمل منظور شدہ لاگت کے برابر ہیں۔پیکیج کے تحت پانی کی فراہمی اور آبپاشی کے منصوبے بھی مکمل کیے گئے۔کوہلو واٹر سپلائی اسکیم پر 6 کروڑ 75 لاکھ 84 ہزار روپے خرچ کیے گئے، جو اس کی منظور شدہ لاگت کے مساوی ہیں۔اسی طرح کہان آبپاشی اسکیم پر ایک کروڑ 64 لاکھ 34 ہزار روپے خرچ کیے گئے، جو منصوبے کی مکمل منظور شدہ لاگت کے برابر ہیں۔دستاویزات کے مطابق 10 میں سے آٹھ منصوبوں پر اخراجات ان کی منظور شدہ لاگت کے برابر رہے، جبکہ صرف 50 بستروں پر مشتمل اسپتال اور گورنمنٹ انٹر گرلز کالج کے منصوبوں پر منظور شدہ لاگت سے کم رقم خرچ ہوئی۔ان دونوں منصوبوں کی وجہ سے پیکیج کی مجموعی منظور شدہ لاگت 7 ارب 95 کروڑ 80 لاکھ روپے اور رپورٹ شدہ اخراجات 7 ارب 91 کروڑ 50 لاکھ روپے کے درمیان 4 کروڑ 35 لاکھ 14 ہزار روپے کا فرق موجود ہے۔








