جاز ورلڈ کی 2026 کی پہلی ششماہی میں آمدن 23 فیصد بڑھ کر 269 ارب روپے سے تجاوز کر گئی

جاز ورلڈ نےسال 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران 269 ارب روپے سے زائد آمدن حاصل کی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 23 فیصد زیادہ ہے

اسلام آباد۔3اگست (اے پی پی):جاز ورلڈ نےسال 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران 269 ارب روپے سے زائد آمدن حاصل کی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 23 فیصد زیادہ ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ اضافہ ٹیلی کمیونی کیشنز، انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل خدمات کے شعبوں میں نمایاں کارکردگی کی بدولت ممکن ہوا۔ اس عرصے میں جاز ورلڈ نے نیٹ ورک کی استعداد بڑھانے، حال ہی میں حاصل کئے گئے اسپیکٹرم کی تنصیب اور پاکستان کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے لیے 29.2 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی۔ پیر کو جاری بیان کے مطابق دوسری سہ ماہی میں کمپنی کی ترقی مزید تیز رہی اور آمدن 25.3 فیصد اضافے کے ساتھ 139.4 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ ٹیلی کمیونی کیشنز اور انفراسٹرکچر سے حاصل ہونے والی آمدن 15.8 فیصد اضافے کے بعد 85.5 ارب روپے رہی۔

کمپنی کے مطابق اس کی وجہ مؤثر قیمتوں کا تعین، پری پیڈ صارفین سے بہتر آمدن، ملٹی پلے آفرز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت، ڈیٹا کے زیادہ استعمال اور صارفین کی تعداد میں اضافہ ہے۔جاز ورلڈ کی DO1440 اور AI1440 حکمت عملی پر عمل درآمد کے ساتھ ڈیجیٹل آمدن میں 44.1 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 53.9 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ اس طرح مجموعی آمدن میں ڈیجیٹل شعبے کا حصہ بڑھ کر 38.7 فیصد ہو گیا جبکہ ایک سال قبل یہ 33.6 فیصد تھا۔ مالیاتی خدمات سے حاصل ہونے والی آمدن 53.3 فیصد اضافے کے بعد تقریباً 39 ارب روپے رہی، جس میں جاز کیش کی قرض کی سہولت، ادائیگیوں، مرچنٹ سروسز اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے فراہم کی جانے والی خدمات نے اہم کردار ادا کیا۔ اسی عرصے میں EBITDA میں 30.5 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 60.3 ارب روپے تک پہنچ گیا، جس کی وجہ آمدن میں نمایاں اضافہ، اخراجات پر مؤثر کنٹرول اور آپریشنل کارکردگی رہی۔

دوسری سہ ماہی کے دوران جاز ورلڈ نے 20.4 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 27.4 فیصد زیادہ ہے۔ کمپنی نے اس عرصے میں نئے حاصل کردہ اسپیکٹرم کی تنصیب شروع کی اور اپنے نیٹ ورک کو 5G خدمات کی توسیع کے لیے تیار کیا۔ کمپنی کے مطابق سال کے باقی حصے میں اسپیکٹرم کی تنصیب اور نیٹ ورک کی استعداد بڑھانے کے باعث سرمایہ کاری میں مزید اضافہ متوقع ہے۔