"وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ ملک بھر میں فور جی اور فائیو جی کنیکٹیویٹی کے فروغ اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے کام جاری ہے۔”
ملک بھر میں فور جی اور فائیو جی کنیکٹیویٹی اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے کام جاری ہے،شزہ فاطمہ خواجہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔3اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ ملک بھر میں فور جی اور فائیو جی کنیکٹیویٹی اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے کام جاری ہے،حکومت کا مقصد نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے۔
پیر کو وزارت آئی ٹی وٹیلی کام سے جاری بیان کے مطابق وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات کے فلیگ شپ پروگرام ’’مٹی کی پکار – اڑان ‘‘اوورسیز پاکستان سمر اسکالرز کے تحت دنیا کی ممتاز عالمی یونیورسٹیوں سے آئے ہوئے اوورسیز اور بین الاقوامی طلباء کے اعلیٰ سطح کے وفد نے وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شزہ فاطمہ خواجہ سے ان کے دفتر میں ایک اہم اور تفصیلی ملاقات کی۔ملاقات کے دوران دنیا کی ٹاپ یونیورسٹیوں کی نمائندگی کرنے والے طلباء اور وفاقی وزیر کے درمیان پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل، آئی ٹی سیکٹر کی ترقی اور یوتھ امپاورمنٹ پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ ملاقات کے دوران وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ نے طلباء کو وزیراعظم پاکستان کے ’’ڈیجیٹل نیشن‘‘ وژن کے بارے میں بریفنگ دی اور بتایا کہ حکومت پاکستان کس طرح ملک کو ڈیجیٹل طور پر بااختیار بنانے اور تمام معاشی و انتظامی نظاموں کی ڈیجیٹائزیشن کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے ملک میں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی، فور جی اور فائیو جی کے حوالے سے ٹیلی کام سیکٹر میں کی جانے والی اصلاحات اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور جدید ٹیکنالوجیز پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد پاکستانی یوتھ کو جدید ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے تاکہ وہ عالمی سطح پر مقابلہ کر سکیں۔ وفاقی وزیر نے آئی ٹی منسٹری کے تحت جاری مختلف منصوبوں کی تفصیلات بتائیں اور واضح کیا کہ کس طرح ای-گورننس اور ڈیجیٹل پیمنٹس کے ذریعے عام شہریوں کی زندگی میں آسانیاں پیدا کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے طلباء، فری لانسرز اور نوجوانوں کے لیے فراہم کردہ سہولیات، بشمول نیشنل فری لانسنگ پروگرامز، آئی ٹی پارکس کے قیام اور اسٹارٹ اپس کی سرپرستی کا خاص طور پر ذکر کیا۔ نشست کے دوران ایک تفصیلی سوال و جواب سیشن کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں اوورسیز طلباء نے آئی ٹی پالیسیز، سائبر سیکیورٹی، بین الاقوامی ادائیگیوں اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ٹیلنٹ کو ملکی آئی ٹی سیکٹر سے جوڑنے کے حوالے سے مختلف سوالات کیے۔ وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ نے تمام سوالات کے انتہائی جامع جوابات دیے اور حکومت کی مستقبل کی حکمتِ عملی سے آگاہ کیا۔’’مٹی کی پکار – اڑان‘‘ کے اسکالرز نے وفاقی وزیر کے وژن، وزارتِ آئی ٹی کی کاوشوں اور طلباء و نوجوانوں کے لیے کیے جانے والے انقلابی اقدامات کی شدید تعریف کی۔ اسکالرز نے عزم ظاہر کیا کہ وہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے ڈیجیٹل وژن کے سفیر بنیں گے اور اپنے علمی و تحقیقی تجربات کے ذریعے ملکی ترقی اور آئی ٹی سیکٹر کے فروغ میں اپنا فعال کردار ادا کریں گے۔








