اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک بھر میں پٹرول پمپوں پر راست (Raast) کیو آر پر مبنی ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے لیے اہم اقدام کرتے ہوئے مزچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (ایم ڈی آر) اور انٹرچینج ری ایمبرسمنٹ فیس (آئی آر ایف) کی زیادہ سے زیادہ حد مقرر کر دی ہے
اسٹیٹ بینک نے پٹرول پمپوں پر ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے چارجز کی حد مقرر کر دی

مزید خبریں
اسلام آباد۔3اگست (اے پی پی):اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک بھر میں پٹرول پمپوں پر راست (Raast) کیو آر پر مبنی ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے لیے اہم اقدام کرتے ہوئے مزچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (ایم ڈی آر) اور انٹرچینج ری ایمبرسمنٹ فیس (آئی آر ایف) کی زیادہ سے زیادہ حد مقرر کر دی ہے۔اسٹیٹ بینک کے پیمنٹ سسٹم پالیسی اینڈ اوورسائیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری سرکلر کے مطابق پٹرول اور متعلقہ مصنوعات کی خریداری کے لیے پٹرول پمپوں پر ہونے والی تمام کارڈ پریزنٹ (Card-Present) ٹرانزیکشنز پر مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ کی حد فی لیٹر ایک روپیہ مقرر کی گئی ہے جبکہ انٹرچینج ری ایمبرسمنٹ فیس کی زیادہ سے زیادہ حد فی لیٹر 20 پیسے ہوگی۔اسٹیٹ بینک کے مطابق یہ نئی ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہوں گی اور 31 جنوری 2027 تک پاکستان میں جاری کیے گئے تمام ادائیگی کارڈز پر لاگو رہیں گی۔ مرکزی بینک نے واضح کیا ہے کہ اس مدت کے اختتام پر مارکیٹ کے ردعمل کا جائزہ لے کر ان ہدایات پر نظرثانی کی جائے گی۔
مرکزی بینک نے تمام ریگولیٹڈ اداروں، جن میں بینک، مائیکرو فنانس بینک ، الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز ، پیمنٹ سروس آپریٹرز اور پیمنٹ سروس پرووائیڈرز شامل ہیں، کو ہدایت کی ہے کہ وہ پٹرول پمپ مالکان کے ساتھ مل کر راست کیو آر پر مبنی ادائیگیوں کی سہولت کو فعال اور موثر بنائیں تاکہ صارفین ایندھن اور متعلقہ مصنوعات کی خریداری میں ڈیجیٹل ادائیگیوں سے آسانی سے استفادہ کر سکیں۔اسٹیٹ بینک نے یاد دلایا کہ 2020 میں ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے لیے پہلی مرتبہ مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ اور انٹرچینج ری ایمبرسمنٹ فیس کا فریم ورک متعارف کرایا گیا جبکہ مارچ 2023 میں کارڈ پر مبنی ادائیگیوں کو فروغ دینے کے لیے ان نرخوں میں مزید نظرثانی کی گئی۔مرکزی بینک کے مطابق حالیہ اقدام کا مقصد پٹرول پمپوں پر ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینا، راست کیو آر نظام کے استعمال میں اضافہ کرنا اور ملک میں کیش لیس معیشت کے فروغ کی حکومتی اور اسٹیٹ بینک کی کوششوں کو مزید تقویت دینا ہے۔







