"امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سروے پولز کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی مقبولیت تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔”
میری مقبولیت تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے، ڈونلڈ ٹرمپ نے سروے پولز کے نتائج کو مسترد کر دیا

مزید خبریں
واشنگٹن۔4اگست (اے پی پی):امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ان کی مقبولیت تاریخ کی بہترین اور بلند ترین سطح پر ہے۔ انہوں نے ان تمام حالیہ رائے عامہ کے جائزوں ( سروے پولز کے نتائج ) کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے جن میں ان کی عوامی مقبولیت میں کمی دکھائی گئی تھی۔ العربیہ اردو کے مطابق انہوں نے ان نتائج کو من گھڑت اور جھوٹے میڈیا کی کارستانی قرار دے دیا۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ کے ذریعے انہوں نے لکھا کہ ان کے واقعی عوامی مقبولیت کے اعداد و شمار اب تک کی بلند ترین سطح پر ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی مقبولیت کی وجہ اپنی حکومت کی اہم کامیابیوں کو قرار دیا، جن میں ٹیکسوں میں بڑی رعایتیں، روزگار کی تاریخی سطح، امریکا میں غیر معمولی غیر ملکی سرمایہ کاری، سرحدوں کی سخت نگرانی کے ساتھ ساتھ وینزویلا میں بڑی فتح اور ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ووٹرز پر زور دیا کہ وہ آنے والے مڈ ٹرم انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو ووٹ دیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب زیادہ تر قومی پولز ان کی مقبولیت میں واضح کمی کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ حالیہ پولز کے اوسط کے مطابق ان کی کارکردگی سے اتفاق کرنے والوں کی شرح 40 فیصد سے بھی کم ہوگئی ہے۔ سی این این، اے پی-نارک اور کوئنی پیک جیسے موثر میڈیا اور تحقیقاتی اداروں کے انفرادی پولز میں ان کی مقبولیت 32 سے 34 فیصد کے درمیان دکھائی گئی ہے۔ اکثریت نے ان کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔یہ سارا تنازعہ کانگریس کے مڈ ٹرم الیکشن سے چند ماہ قبل کھڑا ہوا ہے جسے امریکی صدر اور ریپبلکن پارٹی کی مقبولیت کا ایک اہم ترین امتحان سمجھا جا رہا ہے۔ ان انتخابات سے متعلق سروے قومی سطح پر ڈیموکریٹس کو معمولی برتری کے ساتھ ایک سخت مقابلے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ ماضی کے انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے مسلسل ان پولز کی درستی پر سوال اٹھا رہے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ یہ سروے ان کی واقعی حمایت کا صحیح اندازہ لگانے میں ہمیشہ ناکام رہے ہیں۔








