وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نیشنل پولیس بیورو کا اہم دورہ کیا اور اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی۔ اس موقع پر انہوں نے عوام کی سہولت کے لیے ایک بڑا اور اہم فیصلہ کرتے ہوئے ملک بھر کے لیے یکساں پولیس کریکٹر سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے کے نظام کی اصولی منظوری دے دی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا نیشنل پولیس بیورو کا دورہ، ملک بھر کے لیے یکساں اور آن لائن ’پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ‘کی اصولی منظوری

مزید خبریں
اسلام آباد۔4اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نیشنل پولیس بیورو کا اہم دورہ کیا اور اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی۔ اس موقع پر انہوں نے عوام کی سہولت کے لیے ایک بڑا اور اہم فیصلہ کرتے ہوئے ملک بھر کے لیے یکساں پولیس کریکٹر سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے کے نظام کی اصولی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب نیشنل پولیس بیورو کے ذریعے پولیس کلیرنس سرٹیفیکیٹ جاری کیا جائے گا جس سے اس کے حصول کا سابقہ پیچیدہ عمل ختم ہو کر انتہائی تیز اور مکمل طور پر آن لائن ہو چکا ہے۔
شہری اب گھر بیٹھے نیشنل پولیس بیورو پورٹل کے ذریعے آسانی سے اپنا کریکٹر سرٹیفیکیٹ حاصل کر سکیں گے۔وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پولیس کلیئرنس سرٹیفیکیٹ کے اس یکساں اور آن لائن نظام سے خصوصاً بیرون ملک جانے والے پاکستانی شہریوں کو شدید درپیش مشکلات سے نجات ملے گی اور ان کے لیے تمام مراحل آسان ہو جائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے انٹرنیشنل ڈرائیونگ پرمٹ کے لیے بھی ملک گیر سطح پر ایک یکساں نظام وضع کرنے کی ہدایت جاری کی تاکہ بیرون ملک سفر کرنے والوں کو ہر ممکن سہولت میسر آ سکے۔
محسن نقوی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ نیشنل پولیس بیورو کو ایک جدید، فعال اور متحرک ادارہ بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔دورے کے دوران ڈی جی نیشنل پولیس بیورو نے وفاقی وزیر کو ادارے کی کارکردگی اور مختلف شعبہ جات پر تفصیلی بریفنگ دی جبکہ وزیر داخلہ نے بیورو کی عمارت کی تزئین و آرائش کے کام کا معائنہ بھی کیا۔
اجلاس کے دوران یوم پولیس شہدا کی مناسبت سے ملک میں امن و امان کے قیام اور جرائم کے خاتمے کے لیے جانیں قربان کرنے والے تمام پولیس شہدا کو زبردست ہدیہ عقیدت پیش کیا گیا۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے پولیس شہدا کی عظیم قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہدا ہمارے سروں کے تاج ہیں اور ہم تاقیامت بھی ان کا احسان نہیں اتار سکتے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پولیس شہدا کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور پوری قوم ان کے خاندانوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ہمیشہ کھڑی رہے گی۔








