کانگو میں ایبولا کی وبا کے پھیلاؤ کے درمیان نئی ویکسین کی آزمائش شروع ہو گئی، عالمی ادارہ صحت

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کی بُنڈی بُگیو(Bundibugyo) قسم کی تاریخ کی سب سے بڑی وبا کے دوران موثر علاج اور دنیا کی پہلی ویکسین کی تیاری کے لیے تحقیق میں پیش رفت جاری ہے، تاہم حتمی نتائج سامنے آنے میں ابھی کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

جنیوا۔5اگست (اے پی پی):عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کی بُنڈی بُگیو(Bundibugyo) قسم کی تاریخ کی سب سے بڑی وبا کے دوران موثر علاج اور دنیا کی پہلی ویکسین کی تیاری کے لیے تحقیق میں پیش رفت جاری ہے، تاہم حتمی نتائج سامنے آنے میں ابھی کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق ڈبلیو ایچ او سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ وبا کے لیے تحقیقی آزمائشیں ماضی کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے شروع کی گئیں کیونکہ تحقیقاتی منصوبے وبا کے باضابطہ اعلان سے پہلے ہی تیار کیے جا چکے تھے۔ادارے کے قائمقام سربراہ برائے تحقیق و ترقی ڈاکٹر واسی مورتی نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ بُنڈی بُگیو قسم کے ایبولا وائرس کے لیے اب تک کوئی محفوظ اور موثر علاج یا ویکسین دستیاب نہیں، تاہم برطانیہ میں 24 جولائی کو پہلے مرحلے کی ویکسین آزمائش شروع ہو چکی ہے، جبکہ کینیڈا میں بھی آئندہ چند روز میں ایک اور آزمائش شروع ہونے والی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ابتدائی آزمائشیں فیریٹس اور بندروں پر کی جا رہی ہیں، جن کے نتائج کا جائزہ لینے کے بعد عالمی ادارہ صحت اگلے مرحلے کا فیصلہ کرے گا۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق یکم اگست تک کانگو میں ایبولا کی اس وبا کے 3 ہزار 748 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں 1 ہزار 657 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ 708 مریض صحت یاب ہوئے ہیں۔