استور ،وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین سے داریل کے علمائے کرام کی ملاقات

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حاجی امجد حسین سے داریل کے علمائے کرام کے ایک وفد نے صوبائی وزیر مواصلات و تعمیراتِ عامہ کی معیت میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وفد نے داریل کے عوام کو درپیش صحت، تعلیم، سڑکوں، انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی مسائل سے وزیراعلیٰ کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔

استور۔06 اگست (اے پی پی):وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حاجی امجد حسین سے داریل کے علمائے کرام کے ایک وفد نے صوبائی وزیر مواصلات و تعمیراتِ عامہ کی معیت میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وفد نے داریل کے عوام کو درپیش صحت، تعلیم، سڑکوں، انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی مسائل سے وزیراعلیٰ کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت داریل کے عوام کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت عوامی خدمت پر یقین رکھتی ہے اور علاقے کی پائیدار ترقی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ داریل میں 30 بیڈ پر مشتمل ہسپتال کو جلد فعال بنایا جائے گا تاکہ مقامی آبادی کو صحت کی بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر میسر آ سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ داریل، کھنبری اور ڈوڈشال سڑکوں پر جاری ترقیاتی کاموں میں تیزی لائی جائے گی اور تعمیراتی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ منیکال اور فوگچ پاور ہاؤسز کو بھی مکمل طور پر فعال بنایا جائے گا تاکہ علاقے میں بجلی کی فراہمی بہتر بنائی جا سکے۔ خواتین کی تعلیم کے فروغ کے لیے ہوم اسکولز کو مرحلہ وار پرائمری اسکولوں میں ضم کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ تحصیل کی سطح پر خواتین کے لیے سلائی کڑھائی کی تربیتی مراکز قائم کیے جائیں گے اور بلاسود قرضوں کی فراہمی کے لیے خصوصی پروگرام بھی شروع کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ دیہی علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے جامع پالیسی مرتب کی جا رہی ہے۔ مقامی زمینداروں کی معاونت کی جائے گی اور زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے "ون ولیج، ون پروڈکٹ” پروگرام متعارف کرایا جائے گا۔ملاقات میں صوبائی وزیر مواصلات و تعمیراتِ عامہ کے علاوہ مولانا محفوظ اللہ، مولانا مفتی ضیاء الدین، مولانا عبدالکریم، مولانا سعید اللہ، مولانا ایثار عالم، مولانا عاصم جان اور قاری فداالرحمن بھی شریک تھے۔وفد نے وزیراعلیٰ کے ترقیاتی وژن، گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر علمائے کرام نے وزیراعلیٰ کو دورۂ داریل کی دعوت بھی دی، جسے انہوں نے خوش دلی سے قبول کیا۔