جوہری ہتھیار وں کو دباؤ ڈالنے کے آلے کے طور پر استعمال سے عالمی امن کو شدید خطرات لاحق ہیں ، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا انتباہ

"اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ عالمی امن کو شدید خطرات لاحق ہیں کیونکہ بعض ممالک جوہری ہتھیاروں کی دھمکی کو دوبارہ دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔”

اقوام متحدہ۔6اگست (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ عالمی امن کو شدید خطرات لاحق ہیں کیونکہ ممالک ایک بار پھر جوہری ہتھیاروں کی دھمکی کو دبائو کے آلے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

یہ بات انہوں نے جاپان کے شہر ہیروشیما پر ایٹم بم حملے کو 81سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقدہ امن یادگاری تقریب کے لیے جاری اپنے پیغام میں کہی۔ یہ پیغام انڈر سیکرٹری جنرل اور اقوام متحدہ کی اسلحہ کے خاتمے سے متعلق اعلیٰ نمائندہ ایزومی ناکامیتسو نے پڑھ کر سنایا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ طاقت کے اظہار اور دباؤ ڈالنے کے نام پر ایک بار پھر جوہری ہتھیاروں کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ 6 اگست 1945 کو امریکا نے ہیروشیما پر ایٹم بم گرایا، جس سے شہر تباہ ہو گیا، ہزاروں افراد ہلاک ہوئے اور دنیا نے پہلی بار جوہری جنگ کی ہولناک تباہی کو دیکھا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ہیروشیما ثابت قدمی، تعمیرِ نو اور امید کی ایک متاثر کن مثال ہے۔ اس کے عوام نسل در نسل ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ تاریک ترین حالات کے بعد بھی ایک بہتر مستقبل کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔ ہیروشیما پر ایٹم بم کے دو روز بعد 8 اگست 1945 کو ناگاساکی پر دوسرا ایٹم بم گرایا گیا۔ دونوں حملوں میں تقریباً ایک لاکھ 20 ہزار افراد ہلاک ہوئے جبکہ اتنی ہی تعداد بعد میں جلنے کے زخموں اور تابکاری کے اثرات سے جان کی بازی ہار گئی۔ ان حملوں سے بچ جانے والے تقریباً 6 لاکھ 50 ہزار افراد کو ہیباکوشا (Hibakusha) کہا جاتا ہے۔ انڈر سیکرٹری جنرل ایزومی ناکامیتسو نے جوہری ہتھیاروں کی صورتحال کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی تقسیم، باہمی عدم اعتماد میں اضافہ اور شدید ہوتی عالمی مسابقت ان اصولوں اور حفاظتی نظاموں کو کمزور کر رہی ہے جنہوں نے اب تک جوہری ہھتیاروں سے ہونے والی تباہی کو روکنے میں مدد فراہم کی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جوہری ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی کا کئی دہائیوں پر محیط رجحان اب ختم ( reversing) ہو رہا ہے، جوہری تجربات کے خلاف عالمی اتفاقِ رائے کو خطرات لاحق ہیں جبکہ 2025 میں دنیا بھر میں فوجی اخراجات بڑھ کر 2.9 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وعدہ ابھی تک پورا نہیں ہوا لیکن اسے پورا کرنا ناممکن نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امن خوف اور طاقت کے ذریعے قائم نہیں کیا جا سکتا بلکہ اعتماد، مسلسل مکالمے، سفارت کاری اور بین الاقوامی تعاون میں سرمایہ کاری، بین الاقوامی قانون کے لیے غیر متزلزل عزم اور عالمی تخفیفِ اسلحہ کے نظام کو مضبوط بنانے کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام ممالک، خصوصاً جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاستیں خطرات کم کرنے، اعتماد بحال کرنے اور مکمل جوہری تخفیفِ اسلحہ کی جانب عملی اقدامات کریں۔ انہوں نے اس تصور کو بھی مسترد کرنے کی ضرورت پر زور دیا کہ جوہری ہتھیار سلامتی کی حتمی ضمانت ہیں جبکہ حقیقت میں وہ اس کے برعکس ہیں ۔ انڈر سیکرٹری جنرل نےہیروشیما پر ایٹم بم حملے کو 81سال مکمل ہونے کے موقع پر عالمی برادری سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آئیے تقسیم کی بجائے مکالمے، محاذ آرائی کی بجائے تعاون اور محدود مفادات کی بجائے مشترکہ سلامتی کا انتخاب کریں تاکہ ہم ایک ایسی دنیا کے مزید قریب پہنچ سکیں جہاں ہیروشیما جیسا سانحہ دوبارہ کبھی رونما نہ ہو۔