’’نقوش وطن‘‘ قومی ثقافتی بیانیے، یکجہتی، تہذیبی ورثے کے تحفظ اور حقیقی ثقافتی شناخت کو اجاگر کرنے کی جانب تاریخی اور اہم سنگ میل ہے، اورنگزیب خان کھچی
’’نقوش وطن‘‘ قومی ثقافتی بیانیے، یکجہتی، تہذیبی ورثے کے تحفظ اور حقیقی ثقافتی شناخت کو اجاگر کرنے کی جانب تاریخی اور اہم سنگ میل ہے، اورنگزیب خان کھچی

مزید خبریں
اسلام آباد۔6اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے کہا ہے کہ ’’نقوش وطن‘‘ پاکستان کے قومی ثقافتی بیانیے، قومی یکجہتی، تہذیبی ورثے کے تحفظ اور دنیا کے سامنے پاکستان کی حقیقی ثقافتی شناخت کو موثر انداز میں اجاگر کرنے کی جانب ایک تاریخی اور اہم سنگ میل ہے۔وہ پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) اسلام آباد میں لوک ورثہ اور سینئر فار نیشنل کوہیشن اینڈ آئوٹ ریچ کے زیر اہتمام ’’نقوش وطن ۔ایک قومی ثقافتی بیانیہ‘‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں گورنر سندھ نہال ہاشمی، وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر، چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر نیاز احمد، سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اسد رحمان گیلانی، مختلف ممالک کے سفراء، وفاقی سیکرٹریز، اعلیٰ حکام، ماہرین، فنکاروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی تہذیب و ثقافت ہزاروں برس پر محیط ایک عظیم ورثے کی امین ہے جس میں مہرگڑھ، وادی سندھ کی تہذیب، گندھارا، اسلامی ادوار، صوفی روایات، لوک ثقافت اور ملک کے تمام خطوں کی رنگا رنگ ثقافتی شناخت شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ثقافتی تنوع ہماری سب سے بڑی طاقت ہے اور ہر زبان، روایت، فن اور برادری پاکستان کی قومی شناخت کا لازمی حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’نقوش وطن‘‘ تمام صوبائی حکومتوں اور متعلقہ شراکت داروں کی مشاورت سے تیار کیا گیا ایک جامع قومی فریم ورک ہے جو پاکستان کی ثقافتی شناخت کو اعتماد اور موثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرے گا۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ مارچ 2025ء سے اب تک قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اور اس کے ذیلی اداروں نے 655 سرگرمیاں مکمل کیں، لوک میلہ 2025ء میں تقریباً تین لاکھ افراد نے شرکت کی، قومی لائبریری پاکستان سے دو لاکھ ستر ہزار سے زائد قارئین نے استفادہ کیا، پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز نے 434 ادبی سرگرمیاں منعقد کیں جبکہ 1,252 ثقافتی نوادرات وطن واپس لائے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ادارہ جاتی اصلاحات ، فنکاروں کی فلاح، ثقافتی سفارت کاری کے فروغ اور 12 بین الاقوامی ثقافتی معاہدوں و تبادلہ پروگراموں پر بھی کامیابی سے عمل درآمد کیا گیا۔انہوں نے سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اسد رحمان گیلانی، ماتحت اداروں کے سربراہان، افسران، ماہرین، فنکاروں اور تمام شراکت داروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہی کی محنت سے یہ کامیابیاں ممکن ہوئیں۔ انہوں نے جامعات، میڈیا، نجی شعبے، ترقیاتی شراکت داروں، بیرونِ ملک پاکستانیوں اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ’’نقوش وطن‘‘ کو قومی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اسے ملک بھر میں فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔گورنر سندھ نہال ہاشمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سندھ ہزاروں سال قدیم تہذیب، ثقافت اور صوفی روایات کا امین ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ محبت، رواداری، مہمان نوازی اور مذہبی ہم آہنگی کی روشن مثال ہے جبکہ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی کا پیغام امن، انصاف اور انسانیت کا پیغام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجرک، سندھی ٹوپی اور دستکاریاں سندھ کی ثقافتی شناخت کا اہم حصہ اور روزگار کا ذریعہ ہیں۔ گورنر سندھ نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد سندھ نے لاکھوں مہاجرین کو خوش آمدید کہا اور کراچی مختلف مذاہب، ثقافتوں اور قومیتوں کا حسین گہوارہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی تمام ثقافتیں ہماری مشترکہ قومی شناخت اور طاقت ہیں اور ان کا فروغ قومی یکجہتی کے لیے ناگزیر ہے۔وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر نے کہا کہ جامعات میں پاکستان کی ثقافتی روایات اور مقامی علمی ورثے پر سنجیدہ تحقیق کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ قومی ثقافتی ورثے کو نصاب کا موثر حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ’’نقوش وطن‘‘ ایک زندہ قومی اثاثہ ہے جسے تحقیق، شرکت اور مسلسل بہتری کے ذریعے آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی کا پیمانہ تقریبات کی تعداد نہیں بلکہ اپنی تہذیب و ثقافت سے آگاہ نئی نسل ہونی چاہیے، کیونکہ ثقافتی شعور پر مبنی تعلیم ہی نوجوانوں کو اپنی شناخت، تنوع کے احترام اور عالمی سطح پر موثر کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر نیاز احمد نے کہا کہ پاکستان کی ثقافت اور قومی شناخت ہماری ترقی اور قومی وقار کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین کی ترقی کا راز اپنی ثقافت، عوام اور قومی شناخت سے وابستگی ہے جبکہ ’’نقوش وطن‘‘ کا آغاز درست وقت پر کیا گیا ایک اہم قومی اقدام ہے۔ انہوں نے وفاقی وزیر اور ان کی ٹیم کو اس کامیاب اقدام پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی متنوع ثقافت کو بھرپور انداز میں اجاگر کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔تقریب کے دوران قومی نغمے، موسیقی اور مختلف ثقافتی رنگوں پر مبنی فنکارانہ پرفارمنسز بھی پیش کی گئیں جنہیں شرکا نے بے حد سراہا۔







