جسٹس مسرت ہلالی کی عدالتی خدمات جرات، استقامت اور انصاف سے وابستگی کا مظہر ہیں، چیف جسٹس پاکستان

چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ جسٹس مسرت ہلالی کا عدالتی سفر جرات، استقامت اور انصاف کے ساتھ غیر متزلزل وابستگی سے عبارت ہے، ان کا کیریئر نہ صرف اہم عہدوں پر فائز رہنے بلکہ کئی رکاوٹیں عبور کرنے اور دوسروں کے لیے مثال قائم کرنے کے حوالے سے بھی قابل ذکر ہے

اسلام آباد۔7اگست (اے پی پی):چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ جسٹس مسرت ہلالی کا عدالتی سفر جرات، استقامت اور انصاف کے ساتھ غیر متزلزل وابستگی سے عبارت ہے، ان کا کیریئر نہ صرف اہم عہدوں پر فائز رہنے بلکہ کئی رکاوٹیں عبور کرنے اور دوسروں کے لیے مثال قائم کرنے کے حوالے سے بھی قابل ذکر ہے۔سپریم کورٹ میں جسٹس مسرت ہلالی کی سبکدوشی کے موقع پر منعقدہ فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ جسٹس مسرت ہلالی نے عدلیہ میں آنے سے قبل وکالت کے شعبے میں بھی غیر معمولی پیشہ ورانہ صلاحیت اور اصولی قیادت کا مظاہرہ کیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ایسے وقت میں جب قانونی شعبے میں خواتین کی قیادت کے عہدوں پر نمائندگی نہایت کم تھی، جسٹس مسرت ہلالی پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی پہلی خاتون سیکریٹری منتخب ہوئیں، وہ دو مرتبہ اس بار ایسوسی ایشن کی نائب صدر اور دو مرتبہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو رکن بھی رہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ اعزازات محض ذاتی کامیابیاں نہیں تھے بلکہ قانونی برادری میں جسٹس مسرت ہلالی کو حاصل اعتماد اور احترام کا مظہر تھے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جسٹس مسرت ہلالی کا قائدانہ اور اختراعی جذبہ سرکاری خدمات کے دوران بھی جاری رہا۔ وہ خیبر پختونخوا کی ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے منصب پر فائز ہونے والی پاکستان کی پہلی خاتون وکیل بنیں۔ بعد ازاں انہوں نے خیبر پختونخوا ماحولیاتی تحفظ ٹربیونل کی چیئرپرسن اور وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت برائے خواتین بمقام کار کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔انہوں نے کہا کہ ان تمام عہدوں پر جسٹس مسرت ہلالی نے اسی لگن، دیانت داری اور احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جو ان کے پورے پیشہ ورانہ کیریئر کی پہچان رہی ہے۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ عدلیہ میں تقرری کے بعد جسٹس مسرت ہلالی کے کیریئر میں ایک اور شاندار باب کا اضافہ ہوا، وہ پشاور ہائی کورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس بنیں اور پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل رقم کیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس مسرت ہلالی کا کیریئر بالخصوص نوجوان وکلاء اور خواتین کے لیے مشعل راہ ہے، انہوں نے ثابت کیا کہ محنت، دیانت داری اور لگن کے ساتھ پیشہ ورانہ سفر جاری رکھا جائے تو کوئی بھی عہدہ ناقابل رسائی نہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے جسٹس مسرت ہلالی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میری برادر اور ہمشیرہ ججز، سپریم کورٹ آف پاکستان کے افسران و عملے اور پوری عدالتی برادری کی جانب سے آپ کی ملک و قوم کے لیے گراں قدر خدمات کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ زندگی کے نئے باب میں داخل ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ جسٹس مسرت ہلالی کو صحت، دائمی خوشی، سکون اور اطمینان عطا فرمائے اور انصاف اور ملک کے لیے ان کی زندگی بھر کی خدمات کا اجر عطا کرے۔