پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین مشترکہ دفاعی معاہدہ ، تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے تمام شعبوں کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، وزیرا عظم آفس اعلامیہ

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پاگیا ہے جس کے تحت تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے تمام شعبوں کو مزید وسعت دیتے ہوئے مضبوط بنایا جائے گا اور تینوں ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف کوئی بھی مسلح حملہ تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔

مکہ مکرمہ۔7اگست (اے پی پی):پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پاگیا ہے جس کے تحت تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے تمام شعبوں کو مزید وسعت دیتے ہوئے مضبوط بنایا جائے گا اور تینوں ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف کوئی بھی مسلح حملہ تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس تاریخی معاہدے پر سعودی عرب کے ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، جمہوریہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جمعہ کو مکہ مکرمہ میں ہونے والے سربراہی اجلاس کے موقع پر دستخط کیے۔وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ دفاع کے لیے مکہ المکرمہ میں ہونے والے سربراہی اجلاس کیلئے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی دعوت پر جمہوریہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی عرب کا دورہ کیا۔ ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے جمہوریہ ترکیہ کے صدر اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم کا مکہ المکرمہ کے قصر الصفا میں استقبال کیا جہاں مشترکہ دفاع کے لیے مکہ المکرمہ سربراہی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران مملکت سعودی عرب، جمہوریہ ترکیہ اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان قائم دیرینہ تعلقات کا جائزہ لیا گیا، نیز باہمی دلچسپی کے متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تینوں ممالک کے مابین دیرینہ تاریخی تعلقات، اخوت اور اسلامی یکجہتی کے پائیدار رشتوں، مشترکہ تزویراتی مفادات اور دفاعی شعبے میں طویل عرصے سے جاری تعاون کی روشنی میں مملکت سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، جمہوریہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان، اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ دفاعی معاہدے پر دستخطوں کے بعد تینوں رہنمائوں نے گرمجوشی سے مصافحہ کیا ان کے درمیان انتہائی خوشگوار ماحول میں غیر رسمی جملوں کا بھی تبادلہ ہوا۔اس موقع پر چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر،نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی موجود تھے۔بیان کے مطابق یہ معاہدہ تینوں ممالک کی جانب سے اپنی اجتماعی سلامتی کو مزید مستحکم کرنے اور خطے سمیت دنیا بھر میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے تاکہ ایک محفوظ اور خوشحال مستقبل کے حصول کو یقینی بنایا جا سکے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کا مقصد کسی بھی جارحیت کے خلاف اجتماعی دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔ معاہدے میں یہ واضح طور پر طے کیا گیا ہے کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف کوئی بھی مسلح حملہ تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ مزید برآں معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے تمام شعبوں کو مزید وسعت دینے اور مضبوط بنانے کی بھی ضمانت دیتا ہے۔