:پاکستان نے سوڈان کے جنوبی علاقوں میں بگڑتی سیاسی و سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تجدید شدہ امن معاہدے پر ازسرِنو عمل درآمد کے لیے اپنی وابستگی کا اعادہ کریں۔ یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے گزشتہ روز سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہی
سوڈان کے متحارب فریق فوری اور مستقل جنگ بندی پر عمل درآمد ،اشتعال انگیز بیانات سے گریز کریں، پاکستان

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔7اگست (اے پی پی):پاکستان نے سوڈان کے جنوبی علاقوں میں بگڑتی سیاسی و سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تجدید شدہ امن معاہدے پر ازسرِنو عمل درآمد کے لیے اپنی وابستگی کا اعادہ کریں۔ یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے گزشتہ روز سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوری انتقالِ اقتدار کی کامیابی کے لیے آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات جمہوری انتقالِ اقتدار کو جائز اور مکمل انجام تک پہنچانے کا اہم ذریعہ ہیں، تاہم ان کے انعقاد کے لیے ضروری سیاسی، قانونی، سکیورٹی اور مالی تقاضے ابھی تک پورے نہیں ہوئے،اس خلا کو پُر کرنا ضروری ہے۔ پاکستانی مندوب نےسوڈان کے جنوبی علاقوں میں بڑھتی سیاسی کشیدگی، بین القبائلی تشدد اور جونگلے اور اپر نیل سمیت مختلف علاقوں میں جاری جھڑپوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام فریقوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری اور مستقل جنگ بندی پر عمل درآمد کریں، اشتعال انگیز بیانات سے گریز کریں اور مذاکرات کی طرف واپس آئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سوڈان میں جاری تنازعے کے باعث مرتب ہونے والے اثرات بھی باعثِ تشویش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی سوڈان میں اقوام متحدہ کا مشن ملک میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کر رہا ہے، شدید مشکلات کے باوجود یہ مشن شہریوں کے تحفظ، انسانی امداد کی فراہمی، مقامی سطح پر مذاکرات کے فروغ اور بروقت انتباہ و تنازعات کی روک تھام کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہا ہے۔ پاکستانی مندوب نے نشاندہی کی کہ اس وقت یو این مشن میں 9,176 فوجی اہلکار تعینات ہیں جبکہ اہلکاروں کی منظور شدہ تعداد 12,500 ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال اور شہریوں کے تحفظ کی وسیع ذمہ داریوں کے پیش نظر یو این مشن کی منظور شدہ فوجی استعداد کو مکمل طور پر بروئے کار لایا جانا چاہیے۔








