اسرائیل کے لیے مبینہ جاسوسی کے الزام پر یونیسیف کا اہلکار زیرِ کارروائی

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف نے ایک ایسے ملازم کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے اپنی سابقہ اقوام متحدہ کی ملازمت کے دوران اسرائیل کے لیے مبینہ طور پر جاسوسی کی تھی۔

اقوام متحدہ ۔8اگست (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف نے ایک ایسے ملازم کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے اپنی سابقہ اقوام متحدہ کی ملازمت کے دوران اسرائیل کے لیے مبینہ طور پر جاسوسی کی تھی۔

شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے جمعہ کو تصدیق کی کہ یونیسیف کو اپنے ایک ملازم کے خلاف سنگین الزامات کا علم ہے اور ادارہ اس معاملے میں مناسب کارروائی کر رہا ہے۔مذکورہ اہلکار کی شناخت یَہاو لِخنرکے نام سے ہوئی ہے، جو واشنگٹن ڈی سی میں یونیسیف کے دفتر کی سربراہی کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق انہیں انتظامی رخصت پر بھیج دیا گیا ہے۔فرحان حق نے کہا کہ اگر الزامات درست ثابت ہوئے تو ایسی کارروائیاں اقوام متحدہ کے چارٹر، ملازمین کے ضوابط اور بین الاقوامی سول سروس کے لیے طے شدہ ضابطہ اخلاق سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

انہوں نے کہا کہ ان ضوابط کے تحت اقوام متحدہ کے اہلکاروں کی ذمہ داریاں قومی نہیں بلکہ بین الاقوامی نوعیت کی ہوتی ہیں، جبکہ ان سے آزادی اور غیر جانب داری برقرار رکھنے کا تقاضا کیا جاتا ہے۔’’ڈراپ سائٹ‘‘ نامی نیوز آؤٹ لیٹ کی ایک تحقیق کے مطابق لِخنر نے اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ میں خدمات انجام دیتے ہوئے مبینہ طور پر اقوام متحدہ کی خفیہ معلومات اسرائیلی حکام کو فراہم کی تھیں۔رپورٹ کے مطابق یہ تحقیقات مبینہ طور پر ہیکنگ گروپ ’’ہندالا‘‘ کے حاصل کردہ لیک شدہ ای میلز پر مبنی ہیں، جن میں 2014 اور 2015 کے دوران ہونے والی خط و کتابت شامل ہے۔یونیسیف کی جانب سے معاملے کی مزید تفصیلات یا الزامات کی حتمی تصدیق کے بارے میں فوری طور پر کوئی اضافی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔