ساحلی برادریوں کے روایتی ماحولیاتی علم سے موسمیاتی موافقت، سمندری تحفظ اور پائیدار ماہی گیری کو تقویت مل سکتی ہے،محمد جنید انوار چوہدری

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے ساحلی برادریوں کے روایتی ماحولیاتی علم کو زیادہ سے زیادہ تسلیم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے موسمیاتی موافقت، سمندری تحفظ اور پائیدار ماہی گیری کو تقویت مل سکتی ہے۔

اسلام آباد۔9اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے ساحلی برادریوں کے روایتی ماحولیاتی علم کو زیادہ سے زیادہ تسلیم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے موسمیاتی موافقت، سمندری تحفظ اور پائیدار ماہی گیری کو تقویت مل سکتی ہے۔

وزارت بحری امور کی جانب سے اقوام متحدہ کے 2026 کے تھیم کے تحت منائے جانے والے مقامی افراد کے عالمی دن کے موقع پر جاری اپنے ایک بیان میں وفاقی وزیر نے روایتی اور مقامی علمی نظام کی وسیع اہمیت اور نسلوں میں ان کی منتقلی کو اجاگر کیا۔انہوں نے کہا کہ روایتی ساحلی برادریوں نے لہروں، ماہی گیری کے میدانوں، سمندری انواع، موسم کے نمونوں، مینگرووز اور ساحلی ماحولیاتی نظام کے بارے میں نسلوں کو علم منتقل کیا ۔محمد جنید انوار چوہدری نے کہا کہ روایتی علم محض ماضی کی میراث نہیں ، یہ ایک زندہ وسیلہ ہے جو موسمیاتی لچک، پائیدار ماہی گیری اور ہمارے سمندری ماحولیاتی نظام کے تحفظ میں کردار ادا کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی اور انڈس ڈیلٹا سے لے کر گوادر اور جیوانی تک ساحل کے ساتھ رہنے والی کمیونٹیز ماہی گیری، مینگرووز، ویٹ لینڈز اور دیگر سمندری وسائل پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کراچی کی ساحلی بستیوں میں ماہی گیری کی کمیونٹیز کو شہر کاری، آلودگی اور رہائش گاہوں کی تباہی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے جب کہ انڈس ڈیلٹا کی کمیونٹیز میٹھے پانی کی قلت، کٹاؤ اور ماہی گیری میں تبدیلی کا سامنا کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ساحل پر روایتی ماہی گیر برادریوں کو بھی اسی طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے جن میں سونمیانی، اورماڑہ، پسنی، گوادر اور جیوانی شامل ہیں۔محمد جنید انوار چوہدری نے کہا کہ مقامی ماہی گیروں کو سمندری طوفانوں، ہواؤں، ماہی گیری کے موسم اور سمندری انواع میں ہونے والی تبدیلیوں کا تفصیلی علم ہوتا ہے، اس طرح کے علم کو سائنسی تحقیق کے ساتھ مربوط کرنے سے ماہی گیری کے انتظام، ماحولیاتی نظام کی بحالی اور آفات سے نمٹنے کی تیاری میں بہتری آسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید سائنس اور روایتی ماحولیاتی علم کو ایک دوسرے کی تکمیل کرنی چاہیے، نسلوں سے سمندر کے ساتھ رہنے والی کمیونٹیز اپنے ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں کو ان طریقوں سے سمجھتی ہیں جو رسمی آب و ہوا اور سمندری پالیسیوں کو مضبوط بنا سکتی ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی پہلے ہی سمندری درجہ حرارت، مچھلیوں کی تقسیم، بارشوں، نمکیات، ساحلی کٹاؤ اور انتہائی موسم میں تبدیلیوں کے ذریعے روایتی طرزِ معاش کو متاثر کر رہی ہے۔انہوں نے کمیونٹی پر مبنی موافقت کے اقدامات، مضبوط قبل از وقت انتباہی نظام، آب و ہوا کے لیے لچکدار ساحلی انفراسٹرکچر اور پائیدار ماہی گیری کے انتظام پر زور دیا۔ محمد جنید انوار چوہدری نے ساحلی برادریوں کو ان کے قدرتی وسائل سے متعلق فیصلوں میں شامل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ تحفظ کی پالیسیاں اس وقت زیادہ موثر ہوں گی جب مقامی لوگوں کے ساتھ شراکت داری کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بلیو اکانومی کو ماحولیاتی تحفظ سے الگ نہیں کیا جا سکتا، صحت مند سمندر، لچکدار ساحلی ماحولیاتی نظام اور بااختیار کمیونٹیز پائیدار بحری ترقی کے لیے ضروری ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت ساحلی لچک کو مضبوط بنانے کے اقدامات کی حمایت جاری رکھے گی تاکہ پاکستان کی سمندری اور موسمیاتی پالیسی میں روایتی علم اور کمیونٹی کی شرکت کی عکاسی ہو۔

مزید خبریں