ہر سال 11 ہزار ہیکٹر جنگلات ختم ہو رہے، فوری اقدامات نہ کیے گئے تو موسمیاتی بحران شدت اختیار کر جائے گا، کاشف اشفاق

پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں کاشف اشفاق، تمغہ امتیاز، نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں ہر سال تقریبا 11 ہزار ہیکٹر جنگلات ختم ہو رہے ہیں

لاہور۔9اگست (اے پی پی):پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں کاشف اشفاق، تمغہ امتیاز، نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں ہر سال تقریبا 11 ہزار ہیکٹر جنگلات ختم ہو رہے ہیں، جبکہ ملک کے مجموعی رقبے کا صرف 4.7 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے، جو ماحولیاتی تحفظ کے لیے ناکافی ہے۔ اتوار کو یہاں بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہری آبادی میں تیز رفتار اضافہ، درختوں کی غیر قانونی کٹائی، جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات اور جنگلات کو زرعی و رہائشی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا رجحان جنگلات کے تیزی سے خاتمے کا باعث بن رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان سیلاب، شدید گرمی، خشک سالی اور سموگ جیسے موسمیاتی خطرات کا زیادہ شکار ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات، خصوصا برساتی جنگلات، کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے، موسمی توازن برقرار رکھنے اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، تاہم جنگلات کی مسلسل کٹائی قدرت کی اس صلاحیت کو کمزور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیز رفتار صنعت کاری، شہری توسیع اور جنگلات کی بے دریغ کٹائی نے عالمی درجہ حرارت میں اضافے اور موسمیاتی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ پاکستان بھی گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران جنگلات کے وسیع نقصان کے باعث ماحولیاتی تنزلی اور قدرتی آفات کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات کے خاتمے کے اثرات صرف ماحول تک محدود نہیں بلکہ زراعت، حیاتیاتی تنوع اور آبی وسائل بھی اس سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ اگر زیادہ سے زیادہ رقبے کو جنگلات میں تبدیل نہ کیا گیا تو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات مزید شدت اختیار کریں گے۔ میاں کاشف اشفاق نے حکومت پر زور دیا کہ غیر قانونی درختوں کی کٹائی روکنے کے لیے جامع حکمت عملی اور موثر ایکشن پلان ترتیب دیا جائے۔ انہوں نے عوام میں جنگلات کی ماحولیاتی اور معاشی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے ملک گیر آگاہی مہم چلانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

مزید خبریں