پاکستان میں پیاز کی فی ہیکٹر عالمی پیداوار کے مقابلہ میں 70 فیصد پیدا وار حاصل ہوتی ہے، پلاننگ کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ

پاکستان میں پیاز کی فی ہیکٹر عالمی پیداوار کے مقابلہ میں 70 فیصد پیدا وار حاصل ہوتی ہے، پیاز پیدا کرنے والے دیگر ممالک پیاز کی مجموعی پیداوار کا 7.5 حصہ برآمد کرتے ہیں جبکہ پاکستان میں یہ شرح 2.5 کے مساوی ہے۔

اسلام آباد۔10اگست (اے پی پی):پاکستان میں پیاز کی فی ہیکٹر عالمی پیداوار کے مقابلہ میں 70 فیصد پیدا وار حاصل ہوتی ہے، پیاز پیدا کرنے والے دیگر ممالک پیاز کی مجموعی پیداوار کا 7.5 حصہ برآمد کرتے ہیں جبکہ پاکستان میں یہ شرح 2.5 کے مساوی ہے۔ پلاننگ کمیشن آف پاکستان کی ”اونین کلسٹر فیزیبلٹی اینڈ ٹرانسفارمیشن سٹڈی” کے مطابق 2016 تک ملک میں ایک لاکھ 39 ہزار ہیکٹر رقبہ پر پیاز کاشت کیا جاتا تھا اور مجموعی پیداوار 1.74 ملین ٹن تھی۔ بعدازاں ہر سال پیاز کی ملکی پیداوار میں اتار چڑھائو کا عمل جاری رہا اور پیاز کی پیداوار 1.8 تا 2.2 ملین ٹن کی درمیان بلدتی رہی۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پیاز کی مجموعی زیر کاشت رقبہ کا تقریباً 38 فیصد حصہ سندھ اور بلوچستان میں 21 فیصد رقبہ ہر فصل کاشت کی جاتی ہے۔ مجموعی قومی پیداوار میں سندھ کا حصہ 44 فیصد ہے جبکہ بلوچستان پیداوار میں 33 فیصد کا شراکت دار ہے۔ پیاز کی پیداوار کے حوالہ سے سندھ پہلے جبکہ بلوچستان دوسرے نمبر پر ہے۔ پنجاب تیسرے اور خیبر پختونخوا کا نمبر چوتھا ہے۔ آلو کے بعد پیاز پاکستان میں استعمال ہونے والی دوسری بڑی سزی ہے جس کی سالانہ کھپت کا تخمینہ 1.8 ملین ٹن کے لگ بھگ ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 5.2 ملین ہیکٹر رقبہ پر پیاز کی کاشت سے 9.8 ملین ٹن پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ سٹڈی رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر پیاز کی فی ہیکٹر اوسط پیداوار 1.9 ملین ٹن ہے جبکہ پاکستان میں عالمی پیداوار کے مقابلہ میں فی ہیکٹر 70 فیصد پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ اعدادو شمارکے مطابق پیاز پیدا کرنے والے ممالک اپنی مجموعی پیداوار کا 7.5 فیصد حصہ برآمد کرتے ہیں لیکن پاکستان اپنی کل پیداوار کا صرف 2.5 فیصد پیاز ہی برآمد کرتا ہے۔ سٹڈی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پیاز کی برداشت کے بعد 30 فیصد پیداوار ضائع ہو جاتی ہے۔ منصوبہ بندی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں تجویز پیش کی ہے کہ سٹوریج کی مناسب سہولیات، بہتر فارم مینجمنٹ اور فصل تیار ہونے کے بعد برداشت کے عمل میں بہتر انتظامی اقدامات کے نتیجہ میں پیاز کی پیداوار کے بعد از برداشت نقصانات کو 30 فیصد سے 20 فیصد تک کمی لائی جاسکتی ہے۔ مزید برآں پیاز کی ویلیو ایڈیشن کے ذریعہ پیاز کی برآمدات کے فروغ سے قیمتی زرمبادلہ کے حصول میں بھی اصافہ کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ جس سے دیہی معیشت کی ترقی اور کاشتکار طبقہ کے معیار زندگی میں بھی بہتری لائی جاسکتی ہے