آئی سی سی آئی بزنس اپرچونٹی کانفرنس استنبول، پاکستان اور ترکیہ کے تجارتی و سرمایہ کاری تعلقات کے نئے باب کا آغاز

آئی سی سی آئی بزنس اپرچونٹی کانفرنس استنبول، پاکستان اور ترکیہ کے تجارتی و سرمایہ کاری تعلقات کے نئے باب کا آغاز

استنبول ۔13اگست (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے زیر اہتمام جمعرات کو استنبول میں ایک شاندار بزنس اپرچونٹی کانفرنس (BoC) کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستان اور ترکیہ کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ممتاز کاروباری رہنماؤں نے شرکت کی۔ کانفرنس کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں اور کاروباری روابط کے نئے مواقع تلاش کرنا تھا۔جمعرات کو اسلام آباد چیمبر آف کامرس کی جانب سے یہاں جاری بیان کے مطابق استنبول میں پاکستان کے قونصل جنرل خواجہ خرم نعیم نے بھی کانفرنس میں شرکت کی اور ترک کاروباری شخصیات کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے پاکستان کی تجارتی و سرمایہ کاری صلاحیت، دستیاب مواقع اور کاروبار و سرمایہ کاری کے لیے بہتر ہوتے ہوئے ماحول پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ان کی شرکت نے کانفرنس کو اہم سفارتی اور تجارتی جہت فراہم کی۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی سی سی آئی کے صدر سردار طاہر محمود نے پاکستان میں موجود وسیع کاروباری اور سرمایہ کاری کے مواقع پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت پاکستان، وزارتِ تجارت اور دیگر متعلقہ وزارتوں کی جانب سے سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرنے، برآمدات کے فروغ اور پاکستان کو عالمی منڈیوں سے مزید مربوط کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے بھی شرکاء کو آگاہ کیا۔کانفرنس میں متعدد معروف ترک کاروباری اداروں نے شرکت کی اور پاکستان میں سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ سوال و جواب کے ایک خصوصی سیشن میں آئی سی سی آئی کے صدر سردار طاہر محمود، سابق صدور آئی سی سی آئی عامر وحید شیخ اور محمد اعجاز عباسی، جبکہ پاکستان–ترکیہ انویسٹمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ کونسل (PTIDC) کے بانی و صدر ڈاکٹر عدیل سمع نے ترک کاروباری رہنماؤں کے سوالات کے جوابات دیے اور دوطرفہ تعاون کے عملی امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔

مذاکرات میں اس امر پر خصوصی زور دیا گیا کہ پاکستان اور ترکیہ کی دیرینہ دوستی کو مضبوط معاشی شراکت داری میں تبدیل کیا جائے، جس کے لیے بی ٹو بی روابط، سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبے، ٹیکنالوجی کی منتقلی، صنعتی تعاون اور دونوں ممالک کی منڈیوں تک رسائی کو مزید فروغ دینا ضروری ہے۔ دونوں جانب کے شرکاء نے دوطرفہ اقتصادی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے نجی شعبے کے مسلسل اور فعال روابط کو ناگزیر قرار دیا۔پاکستان اور ترکیہ کے کاروباری رہنماؤں نے بزنس اپرچونٹی کانفرنس کو دونوں ممالک کے تجارتی و سرمایہ کاری تعلقات کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ کانفرنس کے نتیجے میں محض مذاکرات تک محدود رہنے کے بجائے عملی کاروباری معاہدوں، سرمایہ کاری اور طویل المدتی شراکت داریوں کی راہ ہموار ہوگی۔یہ کانفرنس آئی سی سی آئی کی عالمی سطح پر کاروباری روابط کے فروغ کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد پاکستان کو غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش منزل کے طور پر اجاگر کرنا اور پاکستانی کاروباری اداروں کو عالمی منڈیوں سے براہِ راست جوڑنا ہے۔

اس وقت آئی سی سی آئی کا تقریباً 200 اراکین پر مشتمل ایک بڑا وفد استنبول میں موجود ہے، جو نجی شعبے کی سطح پر پاکستان اور ترکیہ کے اقتصادی روابط کو مزید وسعت دینے کے عزم کا مظہر ہے۔آئی سی سی آئی کا وفد آج رات استنبول میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی ایوارڈز تقریب میں بھی شرکت کرے گا، جو دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان روابط، نیٹ ورکنگ اور اعلیٰ سطحی تجارتی و سرمایہ کاری تعاون کے فروغ کے لیے ایک مزید اہم پلیٹ فارم ثابت ہوگی۔