افغانستان میں طالبان کا تعلیمی نظام نظریاتی انتہاپسندی کی زد میں، نئی نسل کی ذہن سازی کا منصوبہ سامنے آگیا،معروف آسٹریلوی تھنک ٹینک لووی انسٹی ٹیوٹ

افغانستان میں طالبان کا تعلیمی نظام نظریاتی انتہاپسندی کی زد میں، نئی نسل کی ذہن سازی کا منصوبہ سامنے آگیا،معروف آسٹریلوی تھنک ٹینک لووی انسٹی ٹیوٹ

اسلام آباد۔15اگست (اے پی پی):افغانستان میں طالبان کا تعلیمی نظام نظریاتی انتہاپسندی کی زد میں ہے، نئی نسل کی ذہن سازی کا منصوبہ سامنے آگیا۔طالبان رجیم کا تعلیمی نظام نئی نسل کی فکری تربیت کی بجائے نظریاتی انتہاپسندی اور عسکری سوچ کے فروغ کا ذریعہ بن چکا ہے۔معروف آسٹریلوی تھنک ٹینک لووی انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان نے افغان لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے ساتھ ساتھ پورے تعلیمی نظام کو اپنی نظریاتی سوچ کے مطابق ڈھالنا شروع کردیا ہے۔

ہمراہ نیٹ ورک کی نئی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 5 ہزار سے بڑھ کر 23 ہزار ہوگئی ہے جن میں 36 لاکھ سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں۔افغان طالبان کے زیر نگرانی تعلیمی نصاب میں جہادی اور عسکری نظریات شامل کرکے کم عمر افغان بچوں کی ذہنی تربیت کی جارہی ہے۔ لووی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق افغان طالبان کا تعلیمی نظام بچوں میں آزادانہ سوچ کی بجائے نظریاتی ہم آہنگی، اطاعت اور حکومت سے وفاداری کو فروغ دینے کا ذریعہ بن چکا ہے،افغان طالبان کی جانب سے خودکش حملہ آوروں کی مسلسل تشہیر مذہبی تعلیم اور عسکریت پسندی کے درمیان فرق کو مزید ختم کررہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ سمیت متعدد عسکریت پسند تنظیموں کی موجودگی اور طالبان کا نظریاتی تعلیمی منصوبہ علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ لڑکیوں کی سکول واپسی بھی افغان تعلیم کے بدلے ہوئے چہرے کو تبدیل نہیں کرسکے گی، طالبان رجیم نئی نسل کی سوچ اور مستقبل کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال چکے ہیں۔

عالمی ماہرین کے مطابق افغانستان میں نام نہاد نظریاتی تعلیم اور عسکریت پسند تنظیموں کی موجودگی خطے میں انتہا پسندی اور بدامنی کے خدشات بڑھا رہی ہے،افغانستان میں بڑھتی نظریاتی اور عسکری تربیت افغان سرزمین سے دہشتگردی کے خطرے سے متعلق پاکستان کے موقف کو مزید مضبوط کرتی ہے۔

 

مزید خبریں