افغان طالبان رجیم کا سیاہ ترین دور اقتدار، اختلاف رائے اور آزاد صحافت پر مکمل بندش ہے،ہیومن رائٹس واچ

افغان طالبان رجیم کے سیاہ ترین دور اقتدار میں اختلاف رائے اور آزاد صحافت پر مکمل بندش ہے،طالبان رجیم کے پانچ سالہ دور میں صحافیوں کو گرفتاریوں، دھمکیوں، ہراسانی اور سینسرشپ جیسے سنگین مسائل کا سامنا رہا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق طالبان دور میں آزاد میڈیا پر پابندی، صحافیوں پر تشدد اور سینکڑوں میڈیا ادارے بندش کا شکار رہے ہیں۔

اسلام آباد۔15اگست (اے پی پی):افغان طالبان رجیم کے سیاہ ترین دور اقتدار میں اختلاف رائے اور آزاد صحافت پر مکمل بندش ہے،طالبان رجیم کے پانچ سالہ دور میں صحافیوں کو گرفتاریوں، دھمکیوں، ہراسانی اور سینسرشپ جیسے سنگین مسائل کا سامنا رہا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق طالبان دور میں آزاد میڈیا پر پابندی، صحافیوں پر تشدد اور سینکڑوں میڈیا ادارے بندش کا شکار رہے ہیں۔

عالمی جریدے ماڈرن ڈپلومیسی کے مطابق افغان طالبان رجیم نے تقریباً 80 فیصد خواتین صحافیوں کو جبری طور پر ملازمت چھوڑنے پر مجبور کیا۔عالمی تجزیہ کار فرشتہ عباسی کا کہنا تھا کہ افغان طالبان رجیم نے تنقیدی آوازیں دبانےکےلئے صحافیوں کو سخت سزاؤں کا نشانہ بنایا۔2024 میں اقوام متحدہ کے افغان مشن نے 336 صحافیوں سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور 256 بلاجواز گرفتاریوں کا انکشاف کیا۔افغان نشریاتی ادارہ کے سربراہ سعد محسینی کے مطابق طالبان رجیم کی کڑی پابندیوں کے باوجود جبر کےخلاف افغان عوام کے مستقبل کےلئے میڈیا کا کردار نہایت اہم ہوگا ۔

ماہرین کے مطابق آزادصحافت اور عالمی میڈیا پر پابندی لگا کر سوشل میڈیا پر جعلی افغان اکاؤنٹس منظم پروپیگنڈے کے فروغ میں سرگرم ہیں۔ طالبان رجیم کے اقتدار میں آنے کے بعد سے آزاد صحافت بالخصوص خواتین پر جبری پابندیوں نے قابض حکومت کا مکروہ چہرہ عیاں کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق پانچ سال سے جاری طالبان رجیم کی آزاد صحافت پر قدغن اور بے بنیاد پروپیگنڈے کا مقصد اپنی پرتشدد ریاستی پالیسی کو چھپانا ہے۔