کلری بگھار فیڈر اپر کی جاری لائننگ کے نتیجے میں کینجھر جھیل میں اندازا83 ہزار 300 ایکڑ فٹ اضافی پانی ذخیرہ کیا گیا ہے، جس سے موسم گرما کے اہم عرصے میں کراچی کو پانی کی فراہمی کے لیے اضافی ذخیرہ میسر آیا ہے۔
کینجھر جھیل میں لائننگ منصوبے سے 83 ہزار 300 ایکڑ فٹ اضافی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش پیدا

مزید خبریں
اسلام آباد۔15اگست (اے پی پی):کلری بگھار فیڈر اپر کی جاری لائننگ کے نتیجے میں کینجھر جھیل میں اندازا83 ہزار 300 ایکڑ فٹ اضافی پانی ذخیرہ کیا گیا ہے، جس سے موسم گرما کے اہم عرصے میں کراچی کو پانی کی فراہمی کے لیے اضافی ذخیرہ میسر آیا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق 2 جون 2026 کو کینجھر جھیل میں پانی کی سطح 49.40 فٹ ریکارڈ کی گئی، جسے محکمہ آبپاشی سندھ نے اس تاریخ کے لحاظ سے بہترین سطح قرار دیا ہے۔ محکمے کے مطابق یہ بہتری نہر کے مکمل شدہ حصوں کی لائننگ سے پانی کے رساؤ میں کمی کا براہ راست نتیجہ ہے۔
کلری بگھار فیڈر اپر (کے بی ایف یو) فیز-I منصوبے کے تحت فیڈر کے 189.67 آر ڈیز، یعنی 57.81 کلومیٹر حصے کی سیمنٹ کنکریٹ لائننگ کی جا رہی ہے، جس کا مقصد پانی کے ضیاع کو کم کرنا اور کراچی کو بڑے پیمانے پر پانی کی قابل اعتماد اور پائیدار فراہمی یقینی بنانا ہے۔اب تک 138.05 آر ڈیز، یعنی 42.08 کلومیٹر حصے کی لائننگ مکمل کی جا چکی ہے اور منصوبے پر مجموعی جسمانی پیش رفت 78 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ مزید 15.73 کلومیٹر حصے کی لائننگ باقی ہے۔منصوبے پر مالی پیش رفت بھی 78 فیصد ہے اور اب تک 31 ارب 54 کروڑ 20 لاکھ روپے جاری اور خرچ کیے جا چکے ہیں۔
ایگزیکٹو کمیٹی آف دی نیشنل اکنامک کونسل (ایکنک) نے 19 جولائی 2023 کو 39 ارب 94 کروڑ 30 لاکھ روپے کی لاگت سے منصوبے کی منظوری دی تھی۔بعد ازاں منصوبے کی لاگت پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے 50 ارب 98 کروڑ 90 لاکھ روپے کیا گیا، تاہم نظرثانی شدہ لاگت کی سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) سے منظوری ابھی باقی ہے۔منصوبے پر وفاقی اور سندھ حکومتیں 50، 50 فیصد کی بنیاد پر اخراجات برداشت کر رہی ہیں، جبکہ محکمہ آبپاشی سندھ اس پر عمل درآمد کا ذمہ دار ادارہ ہے۔منصوبے کی مدت 2023-24 سے 2026-27 تک ہے اور محکمہ آبپاشی کے مطابق کام نظرثانی شدہ شیڈول کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے۔دستاویزات کے مطابق لائننگ مکمل ہونے کے بعد پانی کی ترسیل کے نظام میں رساؤ سے ہونے والے 510 کیوسک پانی کے نقصان کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔
منصوبے کا ایک اہم مقصد کینجھر جھیل کے ذریعے کراچی کے لیے کے-IV فیز-I کی یومیہ 260 ملین گیلن، یعنی 500 کیوسک پانی کی ضرورت پوری کرنا بھی ہے۔پیکج وار اعداد و شمار کے مطابق پیکج-2 پر سب سے زیادہ پیش رفت ہوئی ہے، جہاں 60.50 آر ڈیز کی لائننگ مکمل ہونے کے ساتھ کام 96 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ پیکج-1 پر 36.25 آر ڈیز کی لائننگ کے ساتھ 56 فیصد جبکہ پیکج-3 پر 41.30 آر ڈیز کی تکمیل کے ساتھ 70 فیصد پیش رفت ہوئی ہے۔منصوبے سے منسلک دیگر تعمیراتی کام بھی جاری ہیں۔
آر ڈی-90 پر پانچ حصوں پر مشتمل 1,734 فٹ طویل سپر پیسج 90 فیصد مکمل ہو چکا ہے اور فعال بھی ہے، جبکہ آر ڈی-151 پر پری اسٹریسڈ پل کی تعمیر جاری ہے جسے اگست 2026 کے اختتام تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔آر ڈی-151 سے آر ڈی-189 کے درمیان آخری حصوں میں نہر کے کناروں کے تحفظ کا کام بھی 80 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔محکمہ آبپاشی کے مطابق منصوبے کی 78 فیصد مالی پیش رفت، 78 فیصد جسمانی پیش رفت کے مطابق ہے اور منصوبہ مالی سال 27۔2026میں اپنی منظور شدہ مدت کے اندر مکمل ہونے کی جانب گامزن ہے۔







