"صدرِ مملکت کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ دوحہ معاہدے کے تحت برسرِ اقتدار آنے والی طالبان حکومت اپنے تمام وعدوں سے منحرف ہو چکی ہے۔”
دوحہ معاہدے کے تحت بر سر اقتدار آنے والی طالبان حکومت اپنے تمام وعدوں سے منحرف ہو چکی ہے، مرتضیٰ سولنگی

مزید خبریں
اسلام آباد۔15اگست (اے پی پی):صدرِ مملکت کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ دوحہ معاہدے کے تحت بر سر اقتدار آنے والی طالبان حکومت اپنے تمام وعدوں سے منحرف ہو چکی ہے
، گزشتہ پانچ برس کے دوران اقوام متحدہ کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان آج بھی ایک مستقل اور دیرپا خطرہ ہے،ایک ایسے وقت میں جب پاکستان خطے اور پوری دنیا میں امن کے قیام کے لیے کوشاں ہے، افغان طالبان حکومت بھارت کے تعاون سے اپنی مشترکہ پراکسیز کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی برآمد کرنے میں مصروف ہے۔ایکس پر اپنی پوسٹ میں مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ پانچ سال قبل آج کے دن امریکہ کے ساتھ دوحہ معاہدے کے تحت بننے والی افغان طالبان کی حکومت نے ایک نمائندہ حکومت قائم کرنے کا وعدہ کیا تھا، کہا تھا کہ وہ لڑکیوں اور خواتین کے خلاف اپنی سابقہ جابرانہ پالیسیوں کو دوبارہ نہیں دہرائیں گے، اور یہ عہد بھی کیا تھا کہ افغان سرزمین کو دہشت گردی یا منشیات کی تجارت کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے، جیسا کہ 2001 میں ان کی حکومت کے خاتمے تک ہوتا رہا تھا لیکن آج تک وہ اپنے ان تمام وعدوں سے منحرف ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برس کے دوران اقوام متحدہ کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان آج بھی ایک مستقل اور دیرپا خطرہ ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان خطے اور پوری دنیا میں امن کے قیام کے لیے کوشاں ہے، افغان طالبان حکومت بھارت کے تعاون سے اپنے مشترکہ پراکسیز کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی برآمد کرنے میں مصروف ہے۔انہوں نے کہا یہ حکومت اپنی نسلی اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف بھی جرائم کا ارتکاب کر رہی ہے، دیگر ہمسایہ ممالک میں بھی دہشت گردی برآمد کر رہی ہے اور دنیا بھر میں منشیات کی تجارت کو فروغ دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ طالبان کو یاد رکھنا چاہیے کہ اگر وہ اپنی ان پالیسیوں کو جاری رکھتے ہیں تو ان کا انجام 2001 میں ان کی سابقہ حکومت کے انجام سے کہیں زیادہ برا ہو سکتا ہے۔ پانچ سال گزرنے کے باوجود افغانستان ٹوٹے ہوئے وعدوں کی ایک دردناک یاد دہانی بنا ہوا ہے۔ خواتین اور لڑکیوں کو تعلیمی اداروں، جامعات، روزگار اور عوامی زندگی سے باہر کر دیا گیا ہے۔ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں بدستور افغانستان کے ہمسایہ ممالک، بالخصوص پاکستان، کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ لاکھوں افغان شہری غربت اور غیر یقینی صورتحال میں پھنسے ہوئے ہیں۔مرتضی سولنگی نے کہا کہ کوئی بھی حکومت اپنے ملک کے اندر جبر اور اپنے ہمسایوں کے لیے خطرات پیدا کرکے دیرپا قانونی و عوامی قبولیت حاصل نہیں کر سکتی۔ افغان عوام تعلیم، عزت و وقار، امن اور دہشت گردی سے پاک مستقبل کے مستحق ہیں۔ طالبان کو اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا احترام کرنا ہوگا اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ افغان سرزمین کبھی کسی دوسرے ملک کے خلاف خطرے کے طور پر استعمال نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ پانچ سال ایک طویل عرصہ ہوتا ہے۔ افغانستان کو ایک مختلف راستے کی ضرورت ہے۔ طالبان حکومت کو دیوار پر لکھی تحریر پڑھ لینی چاہیے۔
افغان حکومت بھارتی گٹھ جوڑ سے مشترکہ پراکسیز پاکستان میں دہشت گردی کے لئے استعمال کر رہی ہے ۔








