"پاکستان اسپورٹس بورڈ نے ایکٹیوٹ کے تعاون سے پاکستان کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر پی ایس بی لاہور سینٹر میں کثیرالورزش اسپورٹس فیسٹیول کا انعقاد کیا۔”
پی ایس بی کا ایکٹیوٹ کے تعاون سے یومِ آزادی پر اسپورٹس فیسٹیول کا انعقاد

مزید خبریں
لاہور۔15اگست (اے پی پی):پاکستان اسپورٹس بورڈ نے ایکٹیوٹ کے تعاون سے پاکستان کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر پی ایس بی لاہور سینٹر میں کثیرالورزش اسپورٹس فیسٹیول کا انعقاد کیا۔
فیسٹیول میں باکسنگ، سائیکلنگ، فٹ بال، ویٹ لفٹنگ اور ریسلنگ کے مقابلے ہوئے، جن میں نوجوان کھلاڑیوں نے بھرپور شرکت کی۔ پانچوں کھیلوں میں کھلاڑیوں نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، جبکہ نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں میں ٹرافیاں اور نقد انعامات تقسیم کیے گئے۔ترجمان کے مطابق سائیکلنگ کے مقابلوں میں پروفیشنل خواتین کیٹیگری میں کشور سلیم نے گولڈ میڈل، نور چوہدری نے سلور اور عروج نے برونز میڈل حاصل کیا۔اسی طرح ایمیچر خواتین کے مقابلے میں شمیل نے گولڈ، عفت عارف نے سلور اور نور نے برونز میڈل جیتا۔ اسپیشل کڈز کیٹیگری میں کاظم عباس نے گولڈ، عبدالمہیمین نے سلور جبکہ ندیم احمد نے برونز میڈل حاصل کیا۔آر پی ڈبلیو فریڈم فائٹ فیسٹ 2 کے باکسنگ مقابلوں میں ہیری پرنس نے رافع کو شکست دی، باسط اکٹن نے طلحہ ترم کو مات دی، جبکہ محسن خان نے الطاف اور عزیر کے خلاف تین رکنی مقابلے میں کامیابی حاصل کی۔ ایونٹ کے مرکزی مقابلے میں متین شہزاد نے ہین زار کو شکست دے کر نئے آر پی ڈبلیو پاکستان چیمپئن کا اعزاز حاصل کرلیا۔ویٹ لفٹنگ کے مقابلے میں قاسم مشتاق نے پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ عادل بٹ دوسرے اور حسیب تیسرے نمبر پر رہے۔اختتامی تقریب میں پی ایس بی لاہور سینٹر کی ڈائریکٹر نورش صبا نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ ایکٹیوٹ کے سفیر معظم خان کلیئر اور ایونٹ کوآرڈینیٹر امجد خان بھی موجود تھے۔ مقابلوں کا انعقاد متعلقہ کھیلوں کی ایسوسی ایشنز نے پی ایس بی لاہور سینٹر کی نگرانی میں کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نورش صبا نے کامیاب کھلاڑیوں کو مبارکباد دی اور انہیں اپنی کارکردگی مزید بہتر بنانے کے لیے مسلسل محنت کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ کھیلوں کی سرگرمیاں نوجوانوں کو نظم و ضبط، خود اعتمادی اور مسابقتی جذبہ پیدا کرنے کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے ایونٹ کے انعقاد میں ایکٹیوٹ کے سی ای او اور ڈائریکٹر نیشنل ہسپتال ڈی ایچ اے لاہور، ڈاکٹر رضوان آفتاب احمد کی جانب سے فراہم کی جانے والی معاونت کو بھی سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شمولیت سے کھلاڑیوں کو تربیت اور مقابلوں میں شرکت کے مزید مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا، "ہمیں مزید اسپانسرز کی ضرورت ہے جو آگے بڑھ کر پاکستان کے کھلاڑیوں اور کھیلوں کی سرگرمیوں کی حمایت کریں۔معظم خان کلیئر نے کہا کہ پاکستان میں کھیلوں کا بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے، تاہم کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے مستقل مواقع اور معاونت کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، ہمارے کھلاڑیوں کو مستقل اور ہر سطح پر تعاون کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر کامیابی سے ملک کی نمائندگی کر سکیں۔








