گلگت بلتستان آنے والے سیاحوں کی تعداد میں 10 سال کے دوران 400 فیصد اضافہ

اسلام آباد۔16اگست (اے پی پی):گلگت بلتستان آنے والے سیاحوں کی تعداد میں گزشتہ 10 سال کے دوران 400 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ تجزیہ کار رؤف ظفر نے اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ 2015 میں گلگت بلتستان جانے والے سیاحوں کی تعداد 2 لاکھ کے قریب تھی جبکہ 2025 کے دوران تقریباً 10 لاکھ سے زیادہ سیاحوں نے گلگت بلتستان کے سیاحتی مقامات کا رخ کیا …

اسلام آباد۔16اگست (اے پی پی):گلگت بلتستان آنے والے سیاحوں کی تعداد میں گزشتہ 10 سال کے دوران 400 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ تجزیہ کار رؤف ظفر نے اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ 2015 میں گلگت بلتستان جانے والے سیاحوں کی تعداد 2 لاکھ کے قریب تھی جبکہ 2025 کے دوران تقریباً 10 لاکھ سے زیادہ سیاحوں نے گلگت بلتستان کے سیاحتی مقامات کا رخ کیا جن میں 16 ہزار 500 غیر ملکی سیاح بھی شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق 2015 تا 2025 کے دوران گلگت بلتستان کے سیاحوں کی تعداد میں 8 لاکھ یعنی 400 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے سیاحتی مقامات سوات ، کاغان، ناران اور کمراٹ وغیرہ جانے والے سیاحوں کی تعداد بھی لاکھوں میں رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذرائع آمدورفت تک آسان رسائی ، بہتری حفاظتی اقدامات اور عوامی سطح پر شعور اجاگر کر کے نہ صرف سیاحوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کیا جاسکتا ہے بلکہ شمالی علاقہ جات میں ہونے والے حادثات میں بھی نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے شعبہ سے اربوں ڈالر کا زرمبادلہ کما سکتا ہے جس سے نہ صرف علاقائی معیشت کی ترقی اور مقامی آبادی کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی بلکہ قومی اقتصادی اہداف کے حصول کو بھی یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

رؤف ظفر نے کہا کہ شمالی علاقہ جات کے سیاحتی مقامات کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض مقامات پر عام ٹریکس کے ذریعے پہنچا جاتا ہے اور دوران سفر بارش، لینڈ سلائنڈنگ اور برف باری کی وجہ سے سیاحوں کو متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاحتی مقامات تک بہتر اور محفوظ روڈ نیٹ ورک کی تعمیر وقت کی اہم ضرورت ہے جبکہ ان علاقوں میں صحت اور دیگر سہولیات کی فراہمی سے بھی سیاحوں کی تعداد بڑھائی جاسکتی ہے۔ رؤف ظفر نے کہا کہ پہاڑی علاقوں میں سفر کے حوالے سے سیاحوں سمیت ڈرائیوروں کو آگاہی فراہم کر کے حادثات کی شرح کم کی جاسکتی ہے اور سفر کو بھی محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔

مزید خبریں