غیر معمولی طبی خواص کا حامل تخم بالنگا قدرت کا انمول تحفہ ہے ، جو توانائی بڑھانے ، ہاضمہ کی بہتری اور جلد کی تازگی سمیت متعدد امراض سے تحفظ میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ معروف طبی تجزیہ کار صبا احمد نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ تخم بالنگا غیر معمولی طبی خواص کا حامل ہے لیکن بدقسمتی سے اسے عموماً مشروبات اور فالودہ وغیرہ کی تیاری میں استعمال …
تخم بالنگا توانائی بڑھانے،ہاضمہ کی بہتری اور متعدد امراض سے تحفظ میں معاون ثابت ہوتا ہے، رپورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔16اگست (اے پی پی):غیر معمولی طبی خواص کا حامل تخم بالنگا قدرت کا انمول تحفہ ہے ، جو توانائی بڑھانے ، ہاضمہ کی بہتری اور جلد کی تازگی سمیت متعدد امراض سے تحفظ میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ معروف طبی تجزیہ کار صبا احمد نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ تخم بالنگا غیر معمولی طبی خواص کا حامل ہے لیکن بدقسمتی سے اسے عموماً مشروبات اور فالودہ وغیرہ کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی طور پر کسی زمانہ میں اس کے بیج بطور کرنسی بھی استعمال کئے جاتے رہے اور توانائی سے بھرپور ہونے کے باعث جنگ سے قبل سپاہی اس کوکھانا ضروری سمجھتے تھے۔
رپورٹ کے مطابق 28 گرام تخم بالنگا میں 137 کیلوریز، 12 کاربو ہائیڈریٹس، 4.5 گرام چکنائی، 10.5 گرام فائبر، 0.6 ملی گرام میگنیز، 265 ملی گرام فاسفورس اور 177 ملی گرام کیلشیم کے علاوہ مختلف وٹامنز ، معدنیات اور اینٹی آکسیڈینٹس بھی پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تخم بالنگا میں موجود فینولک ایسڈ جیسے قدرتی اینٹی آکسیڈنٹ کی بہت زیادہ مقدار موجود ہوتی ہے جو جسم میں فری ریڈیکل کے بننے کے عمل کو روکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک جانب اس کا بیج جلد کےلئے مفید ہے تو دوسری جانب بڑھاپے کے اثرات کو بھی کم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تخم بالنگا میں دودھ کے مقابلے میں 5 گنا زیادہ کیلشیم اور وٹامن سی پایا جاتا ہےجو انسانی چہرے کو تازگی فراہم کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تخم بالنگا میں فائبر کی زیادہ مقدار نظام ہاضمہ کےلئے بھی مفید ہے۔ مختلف طبی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تخم بالنگا کا باقاعدہ استعمال معدے میں صحت بخش بیکٹیریا کی تعداد میں اضافہ ، آنتوں کی صفائی اور مدافعتی نظام کو طاقت فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تخم بالنگا کولیسٹرول کو کم اور بلڈ پریشر کو معمول پر رکھتا ہے۔ اس کا باقاعدہ استعمال شریانوں کو تنگ ہونے سے روکتا ہے اور انہیں لچکدار بناتا ہےجبکہ اومیگا تھری کا حامل ہونے کے سبب یہ دل کا ایک اہم محافظ بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تخم بالنگا میں الفا لائنو لک ایسڈ اور فائبر کی موجودگی کے سبب جسم میں فاضل چربی نہیں بنتی اور نہ ہی انسولین سے مزاحمت پیدا ہوتی ہے جو ذیابیطس کا باعث بنتے ہیں۔ جنرل آف سٹرینتھ اینڈ کنڈیشنگ ریسرچ کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے صبا احمد نے رپورٹ میں کہا کہ تخم بالنگا توانائی میں بھی اضافہ کرتا ہے، میٹا بولزم کو تیز کرکے چکنائی کی کمی سے موٹاپے سے تحفظ فراہم کرتا ہے، اس کے علاوہ گرمی کی شدت کم کرنے اور جسم کا درجہ حرارت معتدل رکھنے میں بھی انتہائی مفید ہے۔
انہوں نے کہا کہ تخم بالنگا ہڈیوں اور پٹھوں کی مضبوطی کا اہم ذریعہ بھی ہے کیونکہ ایک اونس تخم بالنگا میں روز مرہ ضرورت کی 18 فیصد کیلشیم موجود ہوتی ہے۔ اسی طرح اس میں موجود بورون نامی کیمیائی عنصر فاسفورس، میگنیز کو جذب کرنے میں مدد دیتا ہے جس سے ہڈیاں اور پٹھے مضبوط ہوتے ہیں ۔ مزید برآں تخم بالنگا نیند کو بہتر بنانے اور منہ اور دانتوں کی صحت میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔








