مکہ باہمی دفاعی معاہدے کے فریم ورک میں اقتصادی شراکت داری کو بھی شامل کیا جائے، ، صدر آل پاکستان انجمن تاجران

آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی صدر اشرف بھٹی نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ باہمی دفاعی معاہدے کے تحت تشکیل دئیے جانے والے مشترکہ سیاسی و عسکری فریم ورک کو مزید جامع بنایا جائے اور اس میں معاشی، تجارتی اور سرمایہ کاری تعاون کو بھی شامل کیا جائے۔

اسلام آباد۔16اگست (اے پی پی):آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی صدر اشرف بھٹی نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ باہمی دفاعی معاہدے کے تحت تشکیل دئیے جانے والے مشترکہ سیاسی و عسکری فریم ورک کو مزید جامع بنایا جائے اور اس میں معاشی، تجارتی اور سرمایہ کاری تعاون کو بھی شامل کیا جائے۔

اتوار کو جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ تینوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان مضبوط سیاسی و دفاعی روابط کے ساتھ اقتصادی شراکت داری وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے تجویز پیش کی کہ فریم ورک میں تینوں ممالک کے وزرائے تجارت، متعلقہ معاشی اداروں اور نجی شعبے کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے تاکہ باہمی تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کے لیے عملی حکمت عملی مرتب کی جا سکے۔

اشرف بھٹی نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ باہمی تجارت کے حجم میں کئی گنا اضافہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔تینوں ممالک کے درمیان تجارتی رکاوٹوں میں کمی ، بزنس ٹو بزنس روابط کے فروغ اور مشترکہ صنعتی و ٹیکنالوجی منصوبوںکی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ معاشی فریم ورک کے تحت برآمدات میں اضافہ، سرمایہ کاری کے فروغ، توانائی، دفاعی پیداوار، انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کا آغاز کیا جائے۔