امریکا کابل میں سفارت خانہ دوبارہ کھولے ، ملک میں سرمایہ کاری کرے،افغان وزیر خارجہ، امریکی ترجمان نے باہمی تعلقات کی بحالی کا امکان مسترد کر دیا
امریکا کابل میں سفارت خانہ دوبارہ کھولے ، ملک میں سرمایہ کاری کرے،افغان وزیر خارجہ، امریکی ترجمان نے باہمی تعلقات کی بحالی کا امکان مسترد کر دیا
کابل ۔16اگست (اے پی پی):افغانستان کی طالبان رجیم کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نےامریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کابل میں سفارت خانہ دوبارہ کھولے اور ان کے ملک میں سرمایہ کاری کرے۔ کابل میں دی نیویارک ٹائمز کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ہم جنگ کے باب کو ختم سمجھتے ہیں اور اب سے ہم باہمی احترام پر مبنی تعلقات اور مثبت روابط کا ایک نیا باب چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی افغان اپنی سرزمین پر کسی دوسرے ملک کی فوجی موجودگی نہیں چاہتا اور نہ ہی اسے برداشت کر سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان کی انتظامیہ امریکا میں سفارتی مشن دوبارہ کھولنا چاہتی ہے اور یورپی ممالک کے ساتھ افغان تارکین وطن کے معاہدوں پر بات چیت کر رہی ہے۔
افغان وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا سمیت کوئی بھی ملک افغانستان میں سرمایہ کاری کر سکتا ہے کیونکہ طالبان انتظامیہ کو غیر ملکی سرمائے کی اشد ضرورت ہے۔ انٹرویو کے دوران افغان وزیر خارجہ نے اس سوال کا واضح جواب دینے سے گریز کیا کہ آیا ان کی حکومت کا خواتین اور لڑکیوں کے خلاف کریک ڈائون بین الاقوامی شناخت میں رکاوٹ ہے۔واضح رہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت، امریکی انخلا کے پانچ سال بعد امریکی حکومت کو اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولنے، سفارتی موجودگی برقرار رکھنے اور افغانستان کے بنیادی ڈھانچے اور معدنی دولت میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دے کر بین الاقوامی تنہائی کو توڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔
سوالات کے تحریری جواب میں امریکی محکمہ خارجہ نے افغانستان کے ساتھ تعلقات معمول پر آنے کے امکان کو مسترد کر دیا۔ امریکی ترجمان کا کہنا تھا کہ طالبان افغانستان کو مزید مستحکم بنانے اور انسداد دہشت گردی کے وعدوں کو برقرار رکھنے میں ناکام رہے ہیں، بجائے اس کے کہ دہشت گرد گروپوں کو افغانستان کو حملوں کے لیے لانچ پیڈ کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔ امریکی ترجمان نے کہا کہ امریکا طالبان کے ساتھ صرف اسی صورت میں بات کرتا ہے جب یہ امریکی عوام کے مفاد میں ہو۔دریں اثنا کسی بھی یورپی ملک نے طالبان انتظامیہ کو افغانستان کی قانونی اتھارٹی کے طور پر تسلیم نہیں کیا ہے اور افغانستان کی عبوری حکومت اقوام متحدہ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ جیسے بین الاقوامی اداروں تک رسائی بھی نہیں رکھتی ہے۔








