وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ اپوزیشن یکسوئی پیدا کرے، وزیراعظم کی مذاکرات کی دعوت آج بھی برقرار ہے
اپوزیشن یکسوئی پیدا کرے، وزیراعظم کی مذاکرات کی دعوت آج بھی برقرار ہے۔ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد۔17اگست (اے پی پی):وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ اپوزیشن یکسوئی پیدا کرے، وزیراعظم کی مذاکرات کی دعوت آج بھی برقرار ہے، ملک میں امن، استحکام اور پارلیمانی نظام کی مضبوطی کا واحد راستہ مذاکرات اور باہمی بات چیت ہے۔پیر کو ایوان بالا کے اجلاس میں سینیٹر محسن عزیز کی جانب سے اٹھائے گئے نکات پر اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہاکہ اپوزیشن کو اپنے اندر یکسوئی پیدا کرنی چاہیے، کیونکہ جن مسائل کا آج ایوان میں ذکر کیا جا رہا ہے، ان کی نشاندہی حکومت ایک سال پہلے بھی کر چکی تھی تاہم اپوزیشن کی صفوں میں تقسیم کے باعث ان معاملات پر پیش رفت نہیں ہو سکی، اپوزیشن خود کسی ایک نقطے پر متفق نہیں ہو پا رہی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں مسائل کا واحد حل مذاکرات اور پارلیمانی طریقہ کار کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے۔ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ رواں سال بجٹ اجلاس کے دوران وزیراعظم نے اپوزیشن اتحاد کو مذاکرات کی دعوت دی تھی۔ اس کے بعد حکومت کی جانب سے پارلیمانی امور سے متعلق مشیر رانا ثناء اللہ اور دیگر رہنما اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں بھی گئے، جہاں بات چیت کے لیے جگہ اور طریقہ کار پر مشاورت ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے سپیکر چیمبر میں ملاقات کی پیشکش کی تاہم اس پر اتفاق نہ ہو سکا۔ بعد ازاں اپوزیشن سے کہا گیا کہ وہ پارلیمنٹ ہائوس کے اندر اپنی پسند کی جگہ تجویز کرے تاکہ وزیراعظم اور اپوزیشن رہنما بیٹھ کر تمام مسائل پر کھل کر بات کر سکیں۔طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات کے لیے کوئی پیشگی شرائط یا ایجنڈا مقرر نہیں کیا۔ اپوزیشن جس بھی موضوع پر بات کرنا چاہے، حکومت اس پر گفتگو کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور ان کی ٹیم نہ صرف اپوزیشن کا موقف خندہ پیشانی سے سنیں گے بلکہ مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کی بھی کوشش کریں گے۔انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم کی جانب سے دی گئی مذاکرات کی دعوت اب بھی برقرار ہے اور اس کی مدت ختم نہیں ہوئی۔ انہوں نے اپوزیشن رہنمائوں، خصوصاً اپوزیشن لیڈر سمیت دیگر پارلیمانی رہنمائوں پر زور دیا کہ وہ وقت اور مقام کا تعین کریں تاکہ مذاکرات کا عمل آگے بڑھ سکے۔ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ روزانہ ایوان کی کارروائی معطل کرکے طویل تقاریر کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے،سیاسی اختلافات کے باوجود پارلیمنٹ ہی مسائل کے حل کا موثر فورم ہے اور تمام فریقوں کو بات چیت کے ذریعے آگے بڑھنا چاہیے۔
انہوں نے اپوزیشن کے احتجاجی طرز عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف مذاکرات کی بات کی جاتی ہے اور دوسری جانب احتجاج، مظاہروں اور انتشار کی کالیں دی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح نہ نظام کو سبوتاژ کیا جا سکتا ہے، نہ اسے اپنے قبضے میں لیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ریاستی نظام اس طریقے سے تبدیل ہو سکتا ہے۔ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد میں ماضی کے احتجاجی دھرنوں کے مناظر خوشگوار نہیں تھے اور ان سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے تاہم احتجاج پرامن ہونا چاہیے اور ایسا نہ ہو کہ اس کے نتیجے میں شہریوں کی نقل و حرکت، کاروبار، تعلیمی اداروں اور اسپتالوں تک رسائی متاثر ہو۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کسی ایک جماعت یا طبقے کی ملکیت نہیں بلکہ یہ تمام پاکستانیوں کا شہر ہے۔ اپوزیشن رہنما روزانہ اسلام آباد آتے ہیں، میڈیا پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، اس لیے یہ تاثر درست نہیں کہ ان کے لیے سیاسی سرگرمیوں کے مواقع محدود کر دئیے گئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے اپوزیشن کی خواہش پر معمول کی کارروائی موخر کرکے سیاسی تقاریر کے لیے وقت فراہم کیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت سیاسی مکالمے پر یقین رکھتی ہے۔ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نےاپوزیشن پر زور دیا کہ وہ واضح طور پر طے کرے کہ آیا وہ مذاکرات اور سیاسی بات چیت کے راستے پر چلنا چاہتی ہے یا احتجاج اور تصادم کی سیاست کو آگے بڑھانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں امن، استحکام اور پارلیمانی نظام کی مضبوطی کا واحد راستہ مذاکرات اور باہمی بات چیت ہے۔








